دوسالوں کی نمازوں کے کفارہ کی مقدار

دوسالوں کی نمازوں کے کفارہ کی مقدار

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری دادی وفات پاچکی ہے دو تین سال سے بیمار رہی اور بستر پر پڑی رہی، گھر کے افراد نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریبا ان کی دو سالوں کی نمازیں قضاء ہوچکی ہیں اور اب ورثاء اس کی قضاء شدہ نمازوں کا کفارہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اب دو سالوں کی قضاء شدہ نمازوں کا کفارہ کتنا بنے گا؟
وضاحت: پوچھنے سے معلوم ہوا کہ مرحومہ آخری چھے ماہ ایسی حالت میں تھیں کہ اس وقت ان کے حواس اس قدر باقی نہ تھے کہ وہ اشارہ کر کے نماز پڑھ سکتیں، حتی کہ وہ اپنے بیٹوں کو بھی نہیں پہچان سکتی تھیں، بول وبراز کا بھی پتا نہ چلتا تھا۔

جواب

اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس نے انتقال سے پہلے اپنی فوت شدہ نمازوں کا کفارہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ورثاء پر کفارہ ادا کرنا واجب ہے اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تو اس صورت میں ورثاء پر کفارہ  ادا کرنا ضروری نہیں، پھر بھی اگر ورثاء اپنی ذاتی ملکیت سے یا تمام ورثاء (بشرطیکہ کوئی وارث نابالغ یا پاگل نہ ہو) کی رضامندی سے مشترکہ ترکے سے کفارہ ادا کریں تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ ادا کرنا بہتر ہے۔
ایک نماز کے کفارے کی مقدار پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے اور وتر کو مستقل نماز شمار کیا جائے گا، یعنی دن رات میں کل چھ نمازوں کا فدیہ بنے گا، جن نمازوں کے پڑھنے کا وقت پایا اور اس قدر حواس باقی رہے کہ اشارہ کر کے نماز پڑھ سکتیں تھیں، لیکن پڑھی نہیں، تو ان نمازوں کا حساب لگا کر ہر نماز کے بدلے ایک کفارہ ادا کیا جائے اور جن نمازوں میں اس قدر حواس باقی نہ تھے کہ اشارہ کر کے نماز پڑھ سکے، ان نمازوں کا کفارہ نہیں ہے۔
لما جاء في التنوير مع الرد:
’’(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يُعطى عن كل صلاة نصف صاع من بُر) كالفطرة، (وكذلك حكم الوتر) والصوم، وإنما يُعطى (من ثلث ماله)‘‘.
’’قوله:(يُعطى) بالبناء للمجھول أي يعطى عنه وليه، أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنھا عبادة فلا بد فيھا من الاختيار‘‘. (كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، 643/2، رشيدية).
وفيه أيضاً:
’’(وإن تعذر الإيماء) برأسه (وكثرت الفوائت) بأن زادت على يوم وليلة (سقط القضاء عنه) وإن كان يفھم في ظاهر الرواية (وعليه الفتوى)‘‘.
’’قوله:(بأن زادت على يوم وليلة) أما لو كانت يوماً وليلة أو أقل وهو يعقل، فلا تسقط بل تُقضى اتفاقاً، وهذا إذا صح، فلو مات ولم يقدر على الصلاة لم يلزمه القضاء حتى لا يلزمه الإيصاء بھا‘‘. (كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، 99/2، سعيد).
وفي البحر الرائق:
’’إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع وإنما يعطى من ثلث ماله‘‘. (كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، 160/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/127