بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

یا محمد کہنے کا حکم

یا محمد کہنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان اس مسئلہ کے بارے میں کہ ” یا محمد” کہنا جائز ہے یا نہیں؟

مفسرین حضرات اس آیت مبارکہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں : (لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاء بَعْضِکُم بَعْضاً). الایۃ

برائے مہربانی اس مسئلہ کو دلائل قرآنیہ ودلائل احادیث نبویہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مبین فرماکر سائل کے سوال کوواضح فرما دیں۔
علماء دیوبند کا اور خصوصاً اکابر علماء دیوبند کے عقیدہ کی بھی وضاحت فرما دیں، کیاا مام صاحب سے اس کے بارے میں جواز یا عدم  جواز کا قول موجود یا نہیں؟ اگر ہے تو حوالہ دے کر مشکور فرمادیں۔

جواب

”یا محمد” کہنے والا اگر یہ سمجھ کر نداء کرتا ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم میری آواز کو ہر وقت اور ہرجگہ سے سنتے ہیں تو یہ ناجائز ہے، اور اگر یہ نیت ہو کر میرے یہ الفاظ فرشتے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم پر عرض کرتے ہیں تو درود وسلام کے ساتھ جائز ہے لیکن بغیر دوردو سلام کے جائز نہیں، اور اگر زیادہ محبت کی وجہ سے ”یا محمد” کتاو ہے بغیر اس عقیدے کے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سنتے ہیں یا فرشتے یہ الفاظ پہنچاتے ہیں تو یہ فی نفسہ جائز اورمباح ہے ( اسی طرح ”یا رسول اﷲ ، کہنا زیادہ محبت کی وجہ سے) لیکن چوں کہ عوام اس بدعقیدگی کا شکار ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر وناظر ہیں او رہرجگہ سے یا محمد یا رسول اﷲ کہنے والے کی آواز سنتے ہیں اس لیے ایسے الفاظ کا نہ کہنا اور لوگوں کو اس سے منع کرنا ہی بہتر ہے، خوصاً جب کہ یہ اہل بدعت کا شعار بھی ہے۔
شریعت میں ”یا اﷲ” ”یا محمد” کے لکھنے کے بارے میں نہ کوئی حکم ہے او رنہ ممانعت، صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ اس طرح الفاظ کے لکھنے میں اگر کوئی مفسدہ لازم نہ آتا ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
لیکن عام طور پر چوں کہ کہ ”یا محمد/یا رسول ا ﷲ اہل بدعت اپنی مساجد میں لکھا کرتے ہیں اور ”یا” سے اس بد عقیدے کااظہار مقصود ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم ہرجگہ حاضر وناضر ہیں او ریہ ایک غلط عقیدہ ہے؛ لہٰذا ان الفاظ کا لکھنا بھی جائز نہ ہو گا، اگر کسی کا یہ عقیدہ نہ بھی ہو تب بھی یہ شائبہ شرک ضرور ہے، جیسے شرک سے بچنا ضروری ہے اسی طرح شائبہ شرک سے بھی اجتناب ضرور ہے۔
اور آیت:(لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَینَکُمْ کَدُعَاء بَعْضِکُم بَعْضاً قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُمْ لِوَاذاً۔۔۔۔۔۔ الایۃ النور:٦٣)
اس کے تحت علامہ ابن کثیر۔ رحمہ اﷲ۔ نے فرمایا کہ لوگ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یا محمد یا ابا القاسم کہہ کر پکارتے تھے، تو اﷲ تبارک وتعالی نے اس طرح کہنے سے منع فرمایا، نبی کے احترام کی وجہ سے یہی آیت اور سورۃ الحجرات والی آیت نمبر٤۔٥ یہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ادب کے بارے میں ہے اور ”یا محمد، یا رسول اﷲ” کہنا اب جب کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے سوء ادب ہے ،خصوصاً جب اس کو اہل بدعت نے پذیرائی بخشی۔
اﷲ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو راہ ِ راست پر قائم رہنے اور سوء ادب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) (تفسیر ابن کثیر٣/٤٠٩ دارالفجاء دمشق)
حضرات علماء دیوبند۔ (کثراﷲ سوادہم) کا موقف وہی ہے جو اوپر مدکور ہوا البتہ حضرت امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ۔ سے اس بارے میں کوئی صراحت نہیں ملی۔
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اﷲ فينبغی او یجب التباعد عن ھذہ العبارۃ (ای موھم المعنی الشرک. ( رد المحتار٤٤٩/٤، باب المرتد ، سعید)
''کما قال فی الروح: تحت قولہ تعالی: لا تقولواراعنا۔۔۔۔ فنزلت الآیۃ ونھی المؤمنون سداً اللباب وقطعا للألسنۃ، وإبعاداً عن المشابھۃ.'' (تفسیر روح المعانی:١/٣٤٨، دارالمعرفۃ بیروت)
''قال الضحاک عن ابن عباس رضی اﷲ عنھما۔ کانوا یقولون یا محمد یا أبا القاسم، فنھا ھم ﷲ عزوجل عن ذلک إعظاما لنبیہ صلی اﷲ علیہ وسلم۔ قال: فقولوا یا نبی ﷲ یا رسول اﷲ، وھکذا قال مجاھد۔۔۔۔ یقول: لا تسموہ إذا دعوتموہ یا محمد ولا تقولوا یا ابن عبدﷲ. (تفسیر ابن کثیر، ٤٠٩/٣، دارالفجاء، دمشق).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی