بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گیارہویں،سوئم وغیرہ کا کھاناکھانے کاحکم

گیارہویں،سوئم وغیرہ کا کھاناکھانے کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نیاز جیسے  گیارہویں ، سوئم وغیر ہ کا کھا نا کھا لینا گناہ ہے،یا شرک ہے؟ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

سوئم (تیجہ،جس میں التزام کے ساتھ تاریخ کاتعین ہو) کا کھانا بدعت اورگناہ ہےاور گیارہویں کا کھانااگر‘‘پیران پیر’’ کی ہی نذر کے طور پر ہو ، تو حرام ہے ، اور اگر صرف ایصال ثواب  مقصود ہو،تو یہ کھانا حرام نہیں ہو گا ،لیکن خاص گیارہویں تاریخ کا تعین کر کے کھلانا اور اس کا التزام کرنا بدعت  اور گناہ ہے ۔

لما في‘‘ البزازية’’:

"یکرہ اتّخاذالطعام في  الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع والأعیاد ، ونقل الطعام الی القبر في المواسم واتّخاذالدعوۃ بقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراءۃللختم .’’(کتاب الصلاۃ:1/54،ط:دار الفکر)

وفي الشامية:

"وقال أيضا :ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت ؛لأنه شرع في السرور، لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة .وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة . وفي‘‘البزازية’’ :ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص."

(كتاب الجنائز، مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت:3/176،ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/121،123