بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گھٹیا مال کو عمدہ مال کے نام سے بیچنے کا حکم

گھٹیا مال کو عمدہ مال کے نام سے بیچنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ ریتی  ، بجری کا  کاروبار کر رہا ہے،،اس کے پاس جو مال آتا ہے کچھ  عمدہ کولٹی کا ہوتا ہے،اور کچھ گھٹیا کا ہوتا ہے، پس وہ ان دونوں قسموں کو آپس میں ملاتا ہے،پھر اس کو عمدہ کوالٹی  کے  نام سے بیچتا ہے،یا  کوالٹی بتائے بغیر بیچتا ہے، اس کاروبار کے متعلق شرعی راہنمائی درکار ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں گھٹیا اور عمدہ   مال کو مخلوط کر کے اسے عمدہ مال کے نام  سے بیچنا یہ ایک دھوکہ ہے،جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ،  البتہ مطلقا بیچتا ہےتو پھر اس کی گنجا ئش ہے ۔

 

لما في الصحيح للمسلم:

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا

عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال ما هذا يا صاحب الطعام قال أصابته السماء يا رسول الله قال أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس من غش فليس مني" . (كتاب الأيمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا،رقم الحديث:101، 1991).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/23