بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہ سے توبہ کرنے کے بعد اس گناہ کے مرتکب کو عار دلانا

گناہ سے توبہ کرنے کے بعد اس گناہ کے مرتکب کو عار دلانا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ہذا میں کہ زید نے گناہ کا خفیةً ارتکاب کیا ، عمر اس گناہ پر مطلع ہوا،اب عمر اس کا مذاق اڑاتا ہے اور لوگوں کے درمیان زید کی تذلیل کرتا ہے ، تو کیا زید پر مظلوم ہونے کا اطلاق ہو سکتا ہے ، یا نہیں؟

جواب 

 زید جب اپنے گناہ سے توبہ کر چکا ہے تواب کسی کے لیے زید کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں ذلیل کرنا جائز نہیں ہے ، زید یقینا اس بارے میں مظلوم ہے۔
ایسے شخص کے بارے میں ”جو مسلمانوں کی آبرو ریزی کرے“ بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لیے عمر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس فعل سے توبہ کرے اور زید سے معافی مانگے۔
حدیث پاک میں ہے کہ جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس کے ایسے گناہ پر عار دلائی جس سے وہ توبہ کرچکا ہو تو مرنے سے پہلے پہلے اس گناہ کے اندر خود مبتلا ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی