بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعی بہن،بھائیوں کی حقیقی بہن سے نکاح کرنے کا حکم

رضاعی بہن،بھائیوں کی حقیقی بہن سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نکاح اپنی ماموں زاد بہن  زینب سے کروایا جارہا ہے،زینب کے  تمام چھوٹے بھائیوں اور بہنوں نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے ،جس کی وجہ سے سب میرے رضاعی بھائی بہن بن بنتے ہیں ،مگر زینب نے میری والدہ سے دودھ نہیں پیا ،کیا زینب میری رضاعی بہن بنے گی؟ کیا زینب سے میرا نکاح درست ہوگا؟ مختصر یہ کہ زید کا نکاح اپنے رضاعی بھائیوں کی حقیقی بہن سے ہوسکتا ہے ،یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

صورت مسئولہ میں زید  کا نکاح اپنے رضاعی بھائی کی حقیقی بہن سے جائز ہے ، بشرطیکہ نکاح سے کوئی اور مانع موجود نہ ہو۔

 

لما في المبسوط للسرخسي:

قال: (ولا بأس بأن يتزوج الرجل أم ابنه التي أرضعته)..... وكذلك يتزوج أخت أخته من الرضاع ومثله من النسب يحل؛لأنه إذا تزوج أخت أخته من النسب،يحل ذلك،بأن كان له أخ لأب،وأخت لأم، فلأخيه لأبيه أن يتزوج أخته لإمه؛لأنه لا نسب بينهماموجب للحرمة، فكذلك في الرضاع.(باب الرضاع:5/129،ط:رشيدية)

وفي الهداية:

ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع.(كتاب الرضاع:2/329،ط:أميرحمزه)

وفي التنوير مع الدر:

( وتحل أخت أخيه رضاعا ) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية،وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما،وهو ظاهر.(كتاب النكاح،باب الرضاع:4/398،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/215