بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا محرّم الحرام کا مہینہ غم والم کا مہینہ ہے؟

کیا محرّم الحرام کا مہینہ غم والم کا مہینہ ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بعض حضرات اور خصوصاً عورتوں کا یہ خیال ہے کہ محرّم الحرام کا مہینہ غم والم کا مہینہ ہے۔ اس کے اندر شادی کرنا کچھ کے خیال کے مطابق جائز نہیں ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ اس مہینے میں شادی کرنا اچھی بات نہیں ہے، کیوں کہ حضور علیہ السلام کے نواسے کو اس ماہ میں شہید کیا گیا تھا۔ مہربانی فرما کر جواب کو مدلّل ذکر کریں؟

جواب

محرّم الحرام کا مہینہ غم والم کا نہیں بلکہ جیسے عام مہینے ہوتے ہیں، یہ بھی اسی طرح ہے، لیکن یہ مبارک ہے، کیوں کہ اس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کے بے شمار انعامات واحسانات مخلوق پر ہوئے ہیں جن کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے۔ اسلام میں کسی کے غم کو سالہا سال تک منانا جائز نہیں، بلکہ صرف تین دن تک غم منایا جاسکتا ہے اور وہ بھی جائز طریقے سے کہ اس میں چیخ چیخ کر نہ رویا جائے،کپڑے نہ پھاڑے جائیں،جاہلیت کی آوازیں نہ نکالی جا ئیں جیسے کہ حدیث میں موجود ہے، باقی اس مہینے میں شادی جائز ہے ،بلکہ اب تو اس بدعت کو ختم کرنے کے لیے باعث ثواب ہے، خود میدان جنگ میں جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ  شہید ہوئے تھے، حضرت قاسم کی شادی ہوئی تھی اور بھی بہت سی شادیاں خیر القرون میں اس مہینے میں ہوتی رہیں، نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یہ ممنوع ہے نہ ان کی شہادت سے پہلے یہ ممنوع تھی۔

''عن زینب بنت ابی سلمۃ انھا اخبرتہ قالت: دخلت علی ام حبیبۃ زوج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم۔ فقالت سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یقول لا یحل الامرأۃٍ تومن باﷲ والیوم الآخر ان تجد علی میت فوق ثلث الاعلی زوج اربعۃ اشھر وعشرا.'' الخ
(بخاری، کتاب الجنائز، ١٧١/١، باب احداد المرأۃ علی غیر زوجھا ،قدیمی) ''ولابأس بنقلہ قبل دفنہ۔۔۔۔۔۔ وبالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلاثۃ ایام.'' قال ابن عامبدین۔ رحمہ اﷲ۔ الجلوس فی المصیبۃ ثلاثۃ أیام للرجال جاء ت الرخصۃ فیہ.'' (درالمحتار ، کتاب الجنائز٢٤١/٢، سعید). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی