بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم عالم الغیب تھے؟

کیا حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم عالم الغیب تھے؟

سوال

کیا حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم علم غیب کے جاننے والے تھے؟ نیز یہ بھی بتائیں  کہ علم غیب کیاچیز ہے؟

جواب

علم غیب کی لغوی تعریف بیان کرتے ہوئے امام راغب اصفہانی یوں رقم طراز ہیں: ہر وہ چیز جو انسان کے علم او رحو اس سے پوشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے، یعنی غیب بمعنی غائب ہے اور کسی چیز کو غیب یا غائب لوگوں کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ورنہ باری تعالیٰ سے تو کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے ۔ (مفردات القرآن:٧٧١)

اور علم غیب کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ علم غیب وہ علم ہے، جو عادی وسائل واسباب اور وسائط کے بغیر از خود ہو اور جو علم وسائل، ذرائع اور وسائط سے حاصل ہو وہ علم غیب نہیں، خواہ وہ وسائل وذرائع حسی وظاہری ہوں، خواہ باطنی و معنوی، یعنی خواہ حواس ، علامات، تجربے اور عقل وخرد سے وہ علم حاصل ہو خواہ وحی یا کشف یا الہام سے، وہ علم غیب نہیں ہے۔ ''والغیب ھو مالم یقل علیہ دلیل ولا اطلع علیہ مخلوق. '' (تفسیر النسفی،ص:٢١٩،ج:٣)

علم غیب کی تعریف جاننے کے بعد چند آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ صلی اﷲ علیہ وسلم پر اکتفا کیا جاتا ہے جو اس بات پر واضح دلالت کرتی ہیں کہ علم غیب خدا کا خاصہ ہے مخلوقات میں سے کسی کو حاصل نہیں۔

آیت نمبر١:(قُل لَّا یَعْلَمُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْبَ إِلَّا اللَّہ).(سورہ نمل:۶۵)

آیت نمبر٢:(وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُو).(سورۃ الانعام:٥٩)

نمبر ۲ :  ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ۱۰ ھ عاشورہ یعنی ۱۰ محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام ؓ  کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲ اس دن کی تو یہود نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو ۹ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا، تاکہ یہود ونصاری کی مخالفت ہوجائے، مگر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اگلے سال تک زندہ نہ رہے، ربیع الاول سنہ ۱۰ ھ میں وفات پاگئے۔ (مشکوٰۃ باب صیام التطوع،ص:١٧٨)
اس کے علاوہ متعدد احادیث ایسی ہیں جن سے معلوا ہوتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے۔

آیت نمبر٣:( قُل لاَّ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً إِلاَّ مَا شَاء اللّہُ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء ُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِیْرٌ وَبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُون).(سورہ اعراف:٢٣)

حدیث نمبر ۱ : ربیع بنت معوذؓ کی شادی کے موقع پر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی موجودگی میں انصار کی بچیاں دف بجا کر ان کے آباء کے مناقب پڑھ رہی تھیں جو بدر میں شہید ہو گئے تھے، ان بچیوں میں سے ایک نے کہہ دیا کہ ہم میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم موجود ہیں جو کل کی باتیں جانتے ہیں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کو چھوڑ دو وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی۔ ( بخاری، کتاب المغازی، ص٥٧٠/٢)

عنہ۔رضی اﷲ عنہ۔ قَالَ: حِینَ صَامَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عَاشُورَاء َ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ یَوْمٌ یُعَظِّمُہُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی. فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ بَقِیتُ إِلَی قَابِلٍ لأصومن التَّاسِع.'' (مشکوٰۃ المصابیح، باب صیام التطوع،١٧٨/١، قدیمی)

''عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَاء ِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْتِمَاسِہِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ.'' (بخاری: کتاب التیمم،٤٨/١، قدیمی)
''عَنْ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃَ بُنِیَ عَلَیَّ فَجَلَسَ عَلَی فِرَاشِی کَمَجْلِسِکَ مِنِّی وَجُوَیْرِیَاتٌ یَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ یَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِہِنَّ یَوْمَ بَدْرٍ حَتَّی قَالَتْ جَارِیَۃٌ وَفِینَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِی غَدٍ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولِی ہَکَذَا وَقُولِی مَا کُنْتِ تَقُولِینَ.'' (بخاری:٥٧/٢، کتاب المغازی، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی