بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا یوم پیدائش بارہ ربیع الاول ہے؟

کیا حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا یوم پیدائش بارہ ربیع الاول ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ۱۲/ربیع الاول کو کچھ حضرات عید میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے عنوان سے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں،کیا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم واقعی ۱۲/ ربیع الاول کو ہی دنیا میں تشریف لائے تھے؟ اگر نہیں تو کیا اس تاریخ کو ان لوگوں کی خوشی منانا درست ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عزت وتوقیر، آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے محبت وعقیدت کا اظہار اصل ایمان ہے ، جس بدنصیب کے دل میں سرور کونین، ہادی سبل، فخرِ موجودات، امام الانبیاء سیدنا محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کی عقیدت ومحبت نہیں ، وہ درحقیقت ایمان ہی سے نابلد اور ناآشنا ہے۔

بخاری شریف میں علامہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اﷲ الباری حدیث مبارکہ نقل فرماتے ہیں: ''عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ.''

ترجمہ: حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے ہاں زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں، اس کے والدین، بچوں اور تمام لوگوں سے۔

جس طرح قرآن وحدیث نے جہاں ہم کو یہ بتلایا ہے کہ حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت رکھنا ایمان کی بنیاد اور جڑ ہے، وہاں پر محبت وعقیدت کا طریقہ بھی بتا دیا اور حضور اقدس صل یاﷲ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے صحابہ کرام رضوان تعالی علیہم اجمعین نے عملی نمونہ سے اس محبت کو ثابت کرکے دنیا کے سامنے پیش کر دیا ، جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہیں مل سکتی۔

باقی یہ کہ حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت کب ہوئی؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں:قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اﷲ تعالی''رحمۃ للعالمین'' میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کے دن ۹/ربیع الاول کو ہوئی۔ چناں چہ وہ فرماتے ہیں:'' ولد نبینا صلی اﷲ علیہ وسلم یوم الاثنین ۹/ ربیع الاول عام الفیل المصادف ۲۱/  ابریل ۵۷۱ م،۲۵/ بیساکھ سنۃ ۶۲۸  البکرمیۃ فی مکۃ المکرمۃ بعد الفجر الصادق، وقیل: طلوع الشمس'' (رحمۃ للعالمین، باب فی حیاتہ وبعثتہ صلی اﷲ علیہ وسلم ، ص:۳۳  ، الدار السلفیۃ بمبئی)

علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اﷲ علیہ نے سیرۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ” ۱/۱۰۹  میں تحریر فرماتے ہیں کہ” تاریخ کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمد پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے ،جس میں انہوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت ۹/ ربیع الاول، روز دو شنبہ بمطابق ۲۰/اپریل ۵۷۱ ھ میں ہوئی۔

الدکتور حسن ابراہیم حسن '' تایخ الإسلام'' میں تحریر کرتے ہیں: ''ذکر المرحوم محمود باشا الفلکی أن ولادۃ الرسول کانت صبیحۃ یوم الاثنین التاسع من شھر ربیع الأول الموافق٢٠/ إبریل سنۃ ٥٧١ م.(تاریخ الإسلام، الباب الثانی: البعثۃ النبویۃ، الرسول منذ أن ولد إلی أن بعث: ١/٧٥، دار إحیاء التراث العربی بیروت)

مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اﷲ تعالی نے ''سیرۃ المصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم'' ۵۷/۱  میں جمہور محدثین ومؤرخین کے ممتاز قول کے مطابق ۸/ ربیع الاول کو جناب نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت کا دن قرار دیا ہے، مزید تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے یہی منقول ہے اور علامہ قسطلانی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
مختصراً یہ کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پیر کے دن ربیع الاول میں ہوئی اور اس میں اختلاف ہے کہ ۲/ ربیع الاول،٨/ربیع الاول،٩/ربیع الاول اور١٢/ ربیع الاول کو ہوئی جب کہ یوم وفات سب کے نزدیک١٢/ربیع الاول بروز پیر ہے۔
قال العلامۃ الملا علی القاری رحمہ اﷲ الباری:'' وَاتَّفَقُوا عَلَی أَنَّہُ وُلِدَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ فِی شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ، وَاخْتَلَفُوا ہَلْ ہُوَ ثَانِی الشَّہْرِ أَمْ ثَامِنُہُ أَمْ عَاشِرُہُ؟ وَتُوُفِّیَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ فِی ثَانِی عَشَرَ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ ضُحًی صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ.''(مرقاۃ المفاتیح، کتاب المناقب: ١٠/١٠٠ رشیدیہ کوئتہ)

واتفقوا علی أنہ ولد یوم الاثنین من شھر ربیع الاول، واختلفوا ھل ھو فی الیوم الثانی، أم الثامن، أم العاشر، فھذہ أربعہ أقوال مشہورۃ، وتوفی صلی اﷲ علیہ وسلم ضحی یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت فی شھر ربیع الاول سنۃ إحدی عشرۃ من الھجرۃ . ( السیرۃ النبویۃ للنووی، ولادتہ ووفاتہ، ص:١٥، دارالبصائر دمشق)

یوم الاثنین لاثنتي عشر لیلۃ خلت من ربیع الاول عام أحد عشر من الھجرۃ (رحمۃ للعالمین، باب أھم أحداث المعھد المدنی، وکانت وفاتہ صلی اﷲ علیہ وسلم:٢٨٨)

انتقل الرسول إلی جوار ربہ فی یوم الاثنین١٢/ربیع الاول سنۃ ١١; (٨ یونیۃ سنۃ٦٣٢م) وھو فی الثالثۃ والستین من عمرہ . (تاریخ الإسلام، الباب الثانی البعثۃ النبویۃ، وفاۃ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم:١/١٥٠ دار إحیاء التراث العربی بیروت)

۱۲/ربیع الاول کو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس دار فانی سے پردہ فرمایا سب کے نزدیک مسلم ہے اور جو تاریخ قطعی طور پر تاریخ وفات ہے اس پر جشن منانا تعجب کی انتہا ہے۔

ہم سے زیادہ عاشق رسول صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیھم أجمعین تھے، جن کو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جدائی برداشت نہ تھی، وہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کر دینے والے تھے، انہوں نے کبھی بھی جشن نہ منایا اور نہ تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی نے جشن منایا تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ سارے کا سارا سلسلہ بعد ہی کی پیداوار ہے،اور اس کا موجد ایک عیاش بادشاہ ہے۔

امام احمد بن محمد بصری مالکی تحریر کرتے ہیں: کہ سلطان اربل مظفر الدین ایک فضول خرچ بادشاہ تھا، وہ اپنے وقت کے علما ءکو حکم دیتا تھا کہ خود اپنے اجتہاد پر عمل کرو اور کسی مذہب کی پیروی نہ کرو، چنانچہ علماءکی ایک جماعت اس کی طرف مائل ہو گئی،مزید آنکہ یہ بادشاہ ربیع الاول میں محفل میلاد منعقدکیا کرتا تھا، بادشاہوں میں یہ پہلا حکمران تھا جس نے یہ بدعت گھڑی ہے۔

تاریخ ابن خلکان میں مذکور ہے کہ اس حکمران نے محفل میلاد کے لیے بہت سے قبے بنوا رکھے تھے،جس میں گانے والے، باجے کھیل تماشے، ناچنے کو دنے والے بیٹھتے تھے، بادشاہ مظفر الدین ہر روز عصر کے بعد ان قبوں میں جاکر ناچ راگ وغیرہ سن کر خوش ہوتا اور پھر خود ناچتا اور پھر اپنے قبے میں تمام رات لہوو لعب میں مشغول رہتا، یہ حکمران سیاسی مفادات کی خاطر عوام کے دلوں کو مائل کرنے کے لیے ہرسال لاکھوں روپے بیت المال سے اس جشن مسرت پر خرچ کر دیتے تھے،ایسے شخص کے گمراہ اور فاسق ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے،اور ایسے شخص کا قول وفعل اور محبت قابل اعتماد کیسے ہو سکتا ہے؟ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی