بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلنے کا حکم، گھٹنے ننگے ہونے کی حٖالت میں کھیلنا

کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلنے کا حکم، گھٹنے ننگے ہونے کی حٖالت میں کھیلنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ٹیپ بال کرکٹ ایک پروفیشل گیم بن چکی ہے، اور ٹیپ بال کے بڑے بڑے ایونٹ ، ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے ہیں، جس میں ایک انعامی رقم مختص کی جاتی ہے جو فائنل "وِنر”(جیتنے والی) ٹیم کو دی جاتی ہے اورفائنل میں”اِنراپ”(ہارنے والی ٹیم) کے لیے بھی ہوتی ہے، اس ٹورنامنٹ میں ٹیم کھلانے کے لیے انٹری  فیس بھی مقرر کی جاتی ہے،ٹورنامٹ میں مختلف ٹیمیں شرکت کرتی ہیں ،انٹری فیس دیتی ہیں، اور فائنل جیتنے والی ٹیم کو انعام دیا جاتا ہے ۔

کیا یہ ٹورنامنٹ درست اور جائز ہے؟ اگر نہیں تو علت بیان کردیں کہ کس وجہ سے جائز نہیں؟

اور اگر جائز ہو سکتا ہے تو کن صورتوں میں کھیلنا جائز ہے؟

اور اگر یہ جائز نہیں تو جو کھلاڑی یا ٹیم صرف فیسں دے کر کھیلتی ہے وہ بھی گنہگار ہوں گے، یا وہ بری ہوں گے ؟ نیز فٹ بال ٹورنامنٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں کھلاڑیوں نے چست جانگئے پہنے ہوتے ہیں اور اکثر کھلاڑیوں کے گھٹنے بھی نظر آتے ہیں تو ان کا تماشہ دیکھنے والوں کا کیا حکم ہے؟

جواب 

صورت  مسئولہ میں ٹورنا منٹ کھیلنے  کی ذکر کردہ صو  رت جانبین سے جیتنے  والےکے لیے پیسے دینے کی شرط لگائی جاتی ہے ،جوئے میں داخل ہے ،جوکہ شرعا  ناجائز وحرام ہے ،اس  سےاحتراز واجب ہے ،البتہ شرعا جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے ،کہ کوئی تیسرا فرد (کمیٹی یا حکومت وغیرہ )ان میں ]جیتنے والے کے لیے  اپنی طرف سے  کچھ انعام مقرر کرلے ، تو یہ جائز ہے ،بشرطیکہ مند رجہ ذیل امور کی رعایت رکھی جائے:

۱۔ کرکٹ کو مقصد بناکر نہ کھیلاجائے۔

۲۔جسمانی ورزش اور ذھنی تفریح کو مد نظر رکھا جائے۔

۳۔اتنا انہماک نہ ہو کہ جو انسان کو دینی یادنیوی حقوق سے  غافل  کردے ۔

۴۔ ساتر لباس پہنا جائےجوکہ مرد کے لیے ناف سے لے کر گٹھنوں تک ہے۔

۵۔ایک  دوسرے کی تذلیل وتنقیص سے حتی الامکان پرہیز کیاجائے، لیکن اس کھیل میں عموما ان امور  کی رعایت نہیں رکھی جاتی ،اس لئے اس (ٹورنا منٹ) سے احتراز  ہی کرنا چاہئیے،اور اس کی جگہ تفریح کی غرض  سے کو ئی دوسرا کھیل کھیلنا چاہئیے،جوکہ شرعا جائز ہو۔

2۔۔۔صورت مسئولہ میں کھلاڑیوں کے پہنے ہوئے لباس اگر ساتر نہ ہوں،یا اتنے چست اور تنگ ہوں کہ  اس سے اعضاء کی بناوٹ اور حجم  ظاہر ہوتا ہو ،اور گٹھنے بھی ڈھکے ہوئے نہ ہوں  تو ایسی صورت میں ان کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔

لما في التنوير مع الدر:

وحرم لوشرط فيها من الجانبين، لأنه يصير قمارا ،لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد ،لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما، بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه.(كتاب الحظر والإباحة ،فصل في البيع، 9/665،ط: رشيدية)

وفي البحر:

( وينظر الرجل إلى الرجل إلا العورة ) وهي ما بين السرة والركبة ،والسرة ليست من العورة والركبة منها ، ...... وحكم العورة في الركبة أخف منه في الفخذ ،وفي الفخذ أخف منه في السرة حتى ينكر عليه في كشف الركبة برفق وفي الفخذ بعنف وفي السرة بضرب.”(كتاب الكراهية،فصل في التطوع والمس، 8/353، ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/303،304