بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کام کے بغیر اجرت لینا

کام کے بغیر اجرت لینا

سوال

جناب مفتی صاحب میں ایک پیچیدہ مسئلہ دریافت کررہا ہوں آپ دین اسلام کی روشنی میں اسکا جواب دے کر ہمیں سیدھی راہ دکھائیں ،اس میں ہمارے کئی بھائی تشویش میں مبتلا ہیں۔

مسئلہ:میرا تعلق پاکستان بحریہ کے غوطہ خور محکمہ سے ہے ہمیں پاکستان بحریہ ایک معقول تنخواہ دیتی ہے، علاوہ ازیں اگر ہم غوطہ خوری کریں تو ہمیں ایک گھنٹے کے 27 روپیہ اضافی ملتے ہیں، غوطہ خوری کی یہ قیمت اندازاً1797 یا 80 کی دہائی کی ہے اس دوران ہمارے محکمے نے بحریہ ہیڈکوارٹر کوکئی خطوط ارسال کیے کہ اس قیمت پر نظر ثانی کی جائے لیکن جواب ندارد، اب میں اصل مسئلہ کی طرف آتا ہوں؟

ہماری وردی ، جوتے اور دیگر لوازمات اس قابل نہیں کہ ہم اس کو صحیح طریقے سے استعمال کر سکیں اس کے علاوہ جنگی لحاظ سے بھی درکار ضروری چیزیں ہمیں محکمہ مہیا نہیں کرتا، تو ہم نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ ہم نے غوطہ خوری کا ماہانہ بل تقریباً8 ہزار تک بنایا جس میں سے 2 ہزار روپیہ ہم اپنی یونٹ کو جمع کرواتے ہیں او رباقی اپنے استعمال میں لاتے ہیں اب یہ جو 8 ہزار روپیہ ہم لیتے ہیں تو اس کے لیے ہم غوطہ خوری کا ماہانہ بل بناتے ہیں جس میں ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے اتنی رقم کی غوطہ خوری کی ہے ، لیکن درحقیقت ہم نے یہ کام کیا نہیں اور اس بات کا علم ہمارے بالا حکام کو بھی ہے او ران کی اجازت، سرپرستی او ردستخط سے یہ کام ہوتا ہے اس رقم سے یونٹ اپنے کام بھی چلاتی ہے اور ہم بھی اپنے لیے فوجی سازوسامان خریدتے ہیں او راس بل کو پاس کروانے کے لیے ہم رشوت بھی دیتے ہیں۔

اب آپ سے یہ درخواست ہے کہ آیا یہ رقم ہمارے لیے جائز ہے یا ناجائز ہے او رکیا یونٹ اپنے وہ کام جو بحریہ ہیڈکوارٹر کے فرض میں شامل ہے کہ وہ کروائے کیا ہم کرواسکتے ہیں کیا ہم اس رقم سے اپنی وردی ،جوتے، بیلٹ، ٹوپی اور دیگر سامان خرید سکتے ہیں او رکیا ہم اس کو ذاتی مصرف میں لاسکتے ہیں ۔

جواب 

صورت مسئولہ میں غوطہ خوری کا عمل کیے بغیر اس کی اجرت لینا جائز نہیں اورجو کام بحریہ ہیڈ کوارٹر کے ذمے نہیں ان کاموں کو یونٹ والوں کا ناجائز طریقے سے پورا کرنا جائز نہیں، بلکہ ہیڈ کوارٹر والوں کے ذریعے ہی ان کاموں کو پورا کرنا چاہیے، اسی طرح آپ یہ رقم اپنے ذاتی مصرف میں بھی خرچ نہیں کرسکتے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی