بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ڈیری فارم کی بھینسوں پر زکوٰة ہے یا نہیں ؟

ڈیری فارم کی بھینسوں پر زکوٰة ہے یا نہیں ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دین وشرع متین اس مسئلے کے بارے میں؟

ایک آدمی اپنے ماہانہ گھریلو اخراجات پورے کرنے یک لیے دودھ کا کاروبار کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے بھینسیں خرید کر ایک باڑہ بنایا جائے گا۔ اور پھر ان بھینسوں کا دودھ فروخت کیا جائے گا۔ اس صورتِ حال میں زکوٰة کا نظام، حساب اور طریقہٴ کار کیا ہو گا؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی اور قرآن وحدیث کی دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔

جواب 

واضح رہے کہ فقہاء کرام نے جانوروں میں زکوٰة کے وجوب کی جو شرط لگائی ہے وہ ہے جانوروں کا ”سائمہ“ ہونا یعنی ایسے جانور جو سال بھر یا سال کا اکثر حصہ چراہ گاہ میں چرتے ہوں، ان کے لیے چارہ خرید کر نہ لانا پڑے اور اگر ایسے جانور ہوں جن کے لیے گھاس ، بھوسہ وغیرہ خریدا جائے تو ایسے جانوروں میں زکوٰة واجب نہیں۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ نے جوباڑہ بنایا ہے اور جانور خریدے ہیں دودھ کے کاروبار کے لیے تو ایسے جانوروں میں زکوٰة نہیں ہے، البتہ آپ جو دودھ کا کاروبار کرتے ہیں اس دودھ کی کمائی پر زکوٰة واجب ہو گی بشرطیکہ اس کمائی پر سال گزر جائے اور وہ کمائی بقدر نصاب ہو…

نیز دودھ کی کمائی کے علاوہ اگر آپ کے پاس سونا، چاندی یا نقدی میں سے بھی کچھ مالیت ہے ، تو سب کو ملا کر نصاب کو مکمل کیا جائے گا پھر اسی حساب سے کل مالیت کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فی صد زکوٰة ادا کی جائے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی