بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چہرے پر تھپڑ مارنے کا حکم

چہرے پر تھپڑ مارنے کا حکم

سوال

 آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ پیش ہے التماس ہے کہ احادیث مبارکہ اور قرآن کریم کی روشنی میں اس مسئلے کا حل فرمائیں۔

مسلمان یا کسی بھی انسان کے چہرے پر تھپڑ مارنا کیسا ہے؟ کیا اس سے متعلق حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے اگر ہے تو اس کا مکمل حوالہ بھی تحریر فرمائیں اسی سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کیا حدیث کا عملی یا قولی انکار مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے۔

جواب 

الله تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اسی طرح اعضا میں سے چہرے کو مجمع المحاسن بنایا ہے چہرہ چاہے انسا ن کا ہو یا حیوان کا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اس کو داغنے سے منع فرمایا ہے ، چناں چہ مسلم شریف میں حدیث ان الفاظ سے مروی ہے: ”عن جابر رضی الله عنہ قال : نھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم عن الضرب فی الوجہ وعن الوسم فی الوجہ“ اور اس کے علاوہ یہ حدیث ترمذی ، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مختلف الفاظ سے مروی ہے ۔

اگر کوئی شخص عملاً حدیث کا انکار کرے ، سستی وکاہلی کی وجہ سے عمل نہ کرے ، جیسے نماز روزہ حج، زکوة ادا نہ کرنا تو ایسا شخص فاسق تو کہلائے گا کافر نہیں ہاں ! اگر کوئی شخص قولاً انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنتوں میں سے کسی سنت کا مذاق اڑائے یا حدیث متواتر کا انکار کرے یا کسی بھی حدیث کا بطور استہزاء واستخفاف انکار کرے تو ایسے شخص کا ایمان خطرے میں ہے اسے چاہیے کہ وہ تجدید ایمان بھی کرے اور تجدید نکاح بھی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی