بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چھت کا کچھ حصہ مسجدمیں داخل کرنے سے وہ مسجد شرعی شمار ہوگا

چھت کا کچھ حصہ مسجدمیں داخل کرنے سے وہ مسجد شرعی شمار ہوگا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جگہ مکمل مسجد کے لئے وقف ہےنماز کے لئے جو کہ مخصوص  کی گئی ہے ،نیچے پورشن میں اطراف میں کچھ جگہ چھوڑی گئی ہے ،جو اوپر پورشن میں داخل کردی گئی ہے اب وہ اوپر والی چھت جس میں یہ چھوڑی ہوئی جگہ کے اوپر بھی چھت آگئی ہے،تو کیایہ پوری مسجد کے حکم میں ہوگی یاچھوڑی ہوئی جگہ کے اوپر جو چھت ہے وہ مسجد نہیں کہلائے گی۔

جواب

صورت مسئولہ میں اوپر چھت پر جو جگہ مسجد کے حصے میں داخل کردی گئی ہے،وہ شرعی مسجد کہلائے گی اور اس پر مسجد والے احکام جاری ہوں گے۔

لما في التنوير مع الرد:

“( وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه ) أي المسجد ( جاز ) كمسجد القدس قوله ( أو جعل فوقه بيتا الخ ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجدا فيما إذا لم يكن وقفا على مصالح المسجد وبه صرح في الإسعاف فقال وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا”.(كتاب الوقف،مطلب في أحكام المسجد،6/549،ط:رشيدية)

وفي الهداية:

“لو جعل تحته حانوتا وجعله وقفا على المسجد قيل لا يستحب ذلك ولكنه لو جعل في الابتداء هكذا صار مسجدا وما تحته صار وقفا عليه ويجوزالمسجد والوقف الذي تحته ولو أنه بنى المسجد أولا ثم أراد أن يجعل تحته حانوتا للمسجد فهو مردود باطل”.(كتاب الوقف،فصل في وقف المسجد،2/620،ط:قديمي)

وفي حاشية الشلبي على تبيين الحقائق:

“قال ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله عن ملكه فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس”.(كتاب الوقف،فصل في أحكام المسجد،4/271،ط:دارالكتب العلمية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/82