بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چند منٹ تاخیر کی وجہ سے پورے دن کی تنخواہ کاٹنا

چند منٹ تاخیر کی وجہ سے پورے دن کی تنخواہ کاٹنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان دو مسئلوں کے بارے میں !!!
میں ایک دینی اسلامی اسکول میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں، وہاں جمعہ کو تعطیل ہوتی ہے ۔ اسکول کا یہ قانون ہے کہ جو استاذ تعطیل ( جمعہ ) والے دن سے قبل ( جمعرات والے دن) یا تعطیل والے دن کے بعد ( ہفتہ والے دن) چھٹی کرے تو انتظامیہ دو دن کی تنخواہ کاٹتی ہے یعنی جمعہ والے دن کی بھی کاٹتی ہے حالاں کہ جمعہ کو تو چھٹی ہوتی اس طرح دیگر تعطیلات سے قبل یا بعد چھٹی کرو تو چھٹی والے دنوں کے ساتھ تعطیلات کے دنوں کی بھی تنخواہ کاٹتی ہے، کیا یہ ازروئے شریعت درست ہے؟
دوسرا مسئلہ:اسکول انتظامیہ نے تمام اساتذہ کو پابند کیا ہے کہ وہ صبح 8 بجے سے قبل اسکول پہنچ جائیں، جو استاد مہینہ میں کوئی سے بھی تین دن آٹھ بجے کے بعد پہنچے ( خواہ وہ چند منٹ لیٹ کیوں نہ پہنچے) انتظامیہ اس استاذ کی ایک دن کی تنخواہ کاٹتی ہے، کیا یہ از روئے شریعت درست ہے؟

جواب 

اسکولوں میں اساتذہ کی شرعی حیثیت اجیر خاص کی ہے پس وہ کام کے وقت میں حاضر رہنے سے اس وقت کی مکمل تنخواہ کے حق دار ہوں گے، کسی غیر حاضری کی وجہ سے غیر حاضری سے زائد وقت کی تنخواہ کاٹنے کا شرعاً انہیں اختیار نہیں ہے اس لیے ادارے والوں کا یہ فعل ناجائز ہے بلکہ جتنے دن کی غیر حاضری ہو اتنے دن کی تنخواہ کاٹنا درست ہے زیادہ نہیں۔
اسی طرح پانچ سے دس منٹ تک لیٹ آنا عرفا ًمعاف ہوتا ہے پس اس پر بھی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی استاذ زیادہ تاخیر کرے تو اتنے وقت کی تنخواہ کاٹنا جائز ہے جتنی دیر ہو، اس سے زیادہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی