بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چالیس سال تک سیاہ خضاب لگانے کاحکم

چالیس سال تک سیاہ خضاب لگانے کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں  داڑھی اور سر کے بالوں کو سیاہ  خضاب لگانے کے بارے میں جامعۃ الرشید کے مفتیان کرام کی ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں ، جس میں  وہ کہتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر سے پہلے داڑھی اور سر کے بالوں  کو کالا خضاب لگانا جائز ہے، جبکہ چالیس سال کے بعد  جائز نہیں اور یہ بھی کہتے ہیں، کہ دارالافتاؤں کا  اس پر اتفاق ہے ،کسی کا اختلاف نہیں ! اسی طرح مفتی محمد زبیر صاحب (مہتمم جامعہ الصفہ ) بھی کہتے ہیں، اگر جوانی میں بال سفید ہوجائیں، تو کالا خضاب لگانا جائز ہے،بلکہ ضروری ہے۔ جبکہ میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں پر کالا خضاب لگانا جائز  نہیں ہے۔

آپ اپنی رائے بتائیں کہ ان میں سے حق پر کون ہے؟   یعنی ہم کس کی مان کر چلیں؟  میری عمر اٹھائیس 28 سال ہے اور میری شادی بھی قریب ہے، میرے سر اور داڑھی کے بال سفید ہوگئے ہیں ، کیا میں کالا خضاب لگا سکتا ہوں ۔ رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

جواب 

چالیس سال سے قبل کالا خضاب  یا مہندی لگانے کی گنجائش ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ خالص سیاہ خضاب کی بجائے سرخی یا زردی  مائل خضاب لگایا جائے ، لیکن  چالیس  سال کے بعد بعد سیاہ خضاب لگانا جائز نہیں ہے ۔

لما في  الشامية :

قوله ( ويكره بالسواد ) أي لغير الحرب  قال في الذخيرة أما الخضاب بالسواد للغزو ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوزه بلا كراهة  روي عن أبي يوسف أنه قال كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها.(كتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، 9/696،ط: رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/113