بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چالیس دن تک ہر جمعرات کو میت کے لیے قرآن خوانی کرنا

چالیس دن تک ہر جمعرات کو میت کے لیے قرآن خوانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان ملت اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ د ور میں یہ رواج بن چکا ہے کہ اکثر گھروں میں میت کے موقع پر چالیس دن گزرنے تک ہر جمعرات قرآن خوانی کروائی جاتی ہے (میت والے گھر میں ) اگر اہل خانہ قرآن خوانی اپنے گھرمیں نہ کروائیں یا کوئی اس قرآن خوانی میں نہ آئے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے ۔ مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ یہ قرآن خوانی کرواناکیسا ہے؟ نہ کروانے پر یا اس قرآن خوانی میں نہ جانے پر تنقید کا نشانہ بنانا کیسا ہے؟ مہربانی فرماکر قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

میت کے لیے ایصال ثواب، دعا واستغفار کرنا قرآن وسنت سے ثابت ہے او رمیت کے لیے اس کی مثال اس تحفہ کی سی ہوتی ہے جسے پاکر اسے راحت وفرحت ملتی ہے ۔ ایسے میں کوئی بھی نیک عمل کرنے سے پہلے میت کو اس کا ثواب پہنچانے کی نیت کر لی جائے تو اس عمل کا ثواب الله جل شانہ میت کو پہنچادیتے ہیں اور وہ عمل کوئی بھی ہو سکتا ہے مثلاً: قربانی کے دنوں میں میت کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا ، حج وعمرہ کا ثواب ایصال کرنا، اسی طرح نفلی روزہ، نماز، تلاوت قرآن، صدقات وغیرہ کا ثواب ایصال کرنا، البتہ کوئی خاص دن مقرر کرکے قرآن خوانی کا اہتمام کرنا اور پھر جونہ آئے اسے تنقید کانشانہ بنانا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے اور جو چیز شریعت کے مزاج کے خلاف ہو او رثابت نہ ہو ، اس کو اپنی طرف سے شروع کرنا صحیح نہیں۔

اس طرح قرآن خوانی میں قباحت یوں بھی ہے کہ لوگ چند روز قرآن وغیرہ پڑھ کر میت کو بھلا دیتے ہیں جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ چالیس دنوں کے بعد آئندہ مستقبل میں بھی میت کو یاد رکھا جائے او رمختلف نیک اعمال کرکے میت کو ایصال ثواب پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی