بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پھل دار اور غیر پھل دار درختوں میں عشر کا حکم

پھل دار اور غیر پھل دار درختوں میں عشر کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:

پھل دار درختوں کی لکڑیوں میں عشر ہے یا نہیں ؟

ایسی زمینیں جو قابل کاشت نہیں ہوتیں، زمیندار اس میں درخت لگا دیتے ہیں کہ جو کہ پھل دار نہیں ہوتے پھر کچھ عرصے بعد کاٹ کر خود استعمال کرتے ہیں یا بیچ دیتے ہیں تو کیا ان درختوں میں عشر ہو گا یا نہیں؟

بعض لوگ قابل کاشت زمینوں کے کناروں پر غیر پھل دار درخت لگاتے ہیں تو کیا اس میں عشر ہو گا یا نہیں ؟

ہمارے علاقے میں بعض لوگوں کے اپنے پہاڑ ہوتے ہیں جن پر وہ درخت لگاتے ہیں او ریہ درخت پھل دار نہیں ہوتے تو کیا ان میں عشر ہو گا یا نہیں؟

مذکورہ صورتوں میں اگر عشر ہے تو خود استعمال کرنے کی صورت میں عشر کس طرح ادا کیا جائے گا؟

جواب 

جواب سے پہلے بطور تمہید ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ زمین کی ہروہ پیداوار جو مقصودی ہو اور عادةً اس کے کاشت کرنے کا رواج ہو او راس کے ذریعے زمین سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہو تو اس میں عشر واجب ہوتا ہے اور ہر وہ پیداوار جو مقصودی نہ ہو اور عادةً اس کے کاشت کرنے کا رواج نہ ہو تو اس میں عشر واجب نہیں ہوتا، إلایہ کہ کاشت کرکے اس کو مقصود بنایا گیا ہو او راس کے ذریعہ زمین سے فائدہ حاصل کرنے کا قصد ہو تو پھر اس میں عشر واجب ہوتا ہے۔

مذکورہ بالاتمہید کے بعد جوابات مندرجہ ذیل ہیں:

ان درختوں کی لکڑیوں میں عشر واجب نہیں ہے کیوں کہ یہ مقصودی پیداوار نہیں ہے ، مقصودی پیداوار پھل ہے اس میں عشر واجب ہے پس ان کی لکڑیوں میں عشر واجب نہیں ہے۔

، درخت اگرچہ زمین کی مقصودی پیداوار نہیں ہے ، اس لیے ان میں عشر بھی واجب نہیں ہوتا، لیکن جب کاشت کرکے ان کو مقصود بنایا گیا ہو اور اس کے ذریعے زمین سے فائدہ اٹھانے کا قصد ہو او رکسی زمین کو اس کے لیے خاص کر دیا گیا ہو تو ان میں عشر واجب ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ دونوں صورتوں میں عشر واجب ہو گا۔

ان درختوں میں عشر واجب نہیں ہے۔

عشر میں پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہوتا ہے ، تاہم اس کی جگہ قیمت دینا بھی جائز ہے ، لہٰذا مذکورہ جن صورتوں میں عشر واجب ہے، اگر کوئی آدمی سب درختوں کو خود استعمال کرے تو ان کے دسویں حصے کی قیمت دینا لازم ہو گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی