بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے کا حکم

پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں :
1…اگر شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو کیا گناہ ہے صغیرہ گناہ ہے یا کبیرہ گناہ ہے؟
2…اورعذر کی وجہ سے نیچے لٹکانا جائز ہے ؟ یا اگر وہ یہ کہے کہ میں نے عاجزی کی وجہ سے شلوار ٹخنوں کے نیچے لٹکایا ہے کیا یہ جائز ہے ؟ یا اور ایسا عذر کرے کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے کی وجہ سے پیٹ بڑا ہوتا ہے۔

جواب

 شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا گناہ کبیرہ ہے ، کیوں کہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا تکبر کی علامت ہے اورحدیث شریف میں ایسا کرنے والے شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے ، ایک حدیث میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ الله تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کریں گے ، نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے ، نہ ان کو گناہوں سے پاک کریں گے او ران کے لیے درد ناک عذاب ہے ، ایک وہ شخص جس کی چادر ٹخنوں سے نیچے ہو ، دوسرا وہ شخص جو صدقہ دے کر احسان جتلائے، تیسرا وہ شخص جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسا کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے اور شلوار ٹخنوں سے اونچا رکھنے کی عادت بنائی جائے۔

یہ کہنا کہ ہم عاجزی کی وجہ سے شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، یا ایسا کرنے سے پیٹ بڑا ہوتا ہے تو وہ غلط کہتے ہیں او رتکبّر کی وجہ سے شریعت مطہرہ کے اس حکم کو توڑنے کے لیے بہانے بناتے ہیں او رایسی باتیں کرنا ان کے ایمان کی کمزوری اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں سے محبت کی کمی بلکہ نفرت کی علامت ہے، کیوں کہ ہمارے زمانے میں جولوگ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کے عادی ہیں وہ اپنے قصد واختیار اور ارادے سے ایسا کرتے ہیں او راس فعل کو موجب افتخار سمجھتے ہیں اور ٹخنوں سے اونچا رکھنے میں ذلت اورخفت محسو س کرتے ہیں ، تو اس کا منشا تکبر کے سوا کیا ہو سکتا ہے ؟ اورجس فعل کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم تکبر قرار دیں، اس میں عاجزی کہاں ہو سکتی ہے؟ بلکہ سنتِ نبوی علی صاحبھا الصلاة والسلام کو حقارت کی نظر سے دیکھنے او راس کو سبب مرض کہنے اور سمجھنے میں تو گناہ سے بڑھ کر ایمان کے سلب ہونے کا اندیشہ ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ! فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی