ٹی وی پر تلاوت، خبرنامے اور ویڈیو بیانات دیکھنا کیسا ہے؟

ٹی وی پر تلاوت، خبرنامے اور ویڈیو بیانات دیکھنا کیسا ہے؟

سوال

کیا فرماتے علماء کرام دین متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ٹی وی پر تلاوت، خبرنامے، ویڈیو بیانات اسی طرح تاریخی مقامات اورکرکٹ دیکھنا کیسا ہے ؟اور مشہور ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے اور اگر کوئی اس سے منع کرتا رہے، لیکن وہ گھر کا سربراہ نہ ہو ( یعنی بڑا نہ ہو بلکہ مثلاً باپ کا بڑا بیٹاہو ) اور نہیں مانا جاتا تو اس صورت میں وہ کیا کرے؟ آپ حضرات کی طرف سے جواب ملنے کی اشد ضرورت ہے۔

جواب

ٹی وی کا دیکھنا بہت سے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، ان مفاسد میں سے ایک بڑا مفسدہ تصویر ہے اور جاندار کی تصویر کا حرام ہونا واضح ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور ملائکہ سے دوری کی وضاحت تو آپ نے خود کر دی ، لہٰذاجس چیز کو آپ صلی الله علیہ وسلم حرام اور ملعون فرمارہے ہوں اسے دیکھنا یا اسے نیک کام کا ذریعہ بنانا جائز نہیں۔

جہاں تک بڑے بیٹے کا تعلق ہے تو یہ بات واضح رہے کہ کسی بھی شر اور گناہ کے کام سے تنبیہ کرنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہے ، لہٰذا بڑے بیٹے کو چاہیے کہپیار ومحبت او رحکمت کے ساتھ والد صاحب کو ٹی وی کے نقصانات ، آپ علیہ الصلاة والسلام کے ارشادات او راسلامی تعلیمات سے آگاہ کرے، سختی والا لہجہ اپنانے سے اجتناب کیا جائے، گھر میں دینی فضا قائم کی جائے اوراس کے ساتھ ساتھ الله جل شانہ کے حضور میں دعا بھی کی جائے کہ والد صاحب کے دل سے اس کا شوق ختم ہو جائے ، ان شاء الله گھر میں اگر دینی ماحول کی فضاء بن جائے گی تو والد کی طبیعت پر بھی اثر ہو گا اور ٹی وی کی محبت دل سے نکل جائے گی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی