بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ٹھیکیدار کا مکان بنانے سے قبل فروخت کرنے کا حکم،اس کی متبادل صورت

ٹھیکیدار کا مکان بنانے سے قبل فروخت کرنے کا حکم،اس کی متبادل صورت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک غریب آدمی ہےاس کے پاس زمین ہے، لیکن پیسے نہیں ہیں، ایک مالدار آدمی نے اس سے کہا کہ میں اپنے پیسے سے تمہاری زمین پر تمہارے لیے مکان بناؤں گا، لیکن میرا خرچہ دس لاکھ بنانے پر آئے گا، تو میں تم سے پندرہ لاکھ روپے وصول کروں گا،توکیا یہ معاملہ درست ہے؟اگر درست نہیں تو اس کی متبادل صورت بیان فرمائیں۔

جواب 

صورت مسئولہ میں ذکر کردہ معاملہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ مذکورہ معاملے میں یہ معدوم شئےکی بیع ہےجو کہ جائز نہیں۔

لہٰذااس کی متبادل صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زمین کا مالک ٹھیکیدار کو کچھ وقت کے لیے زمین عاریت پر دے دے،چنانچہ ٹھیکیدارزمین کے مالک سے وعدہ بیع کر لےاور اس زمیں پر اپنے لیے مکان بنائے پھر مالک زمین ،اپنی زمین واپس لینا چاہے تووہ ٹھیکیدارسےمکان خرید لے ،پھر خریدنا جیسے  طے پائے (چاہے نقد ہو یا قسط وار)جائز ہے،البتہ قسطوں پر خریدنے کے لیے چند شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

۱۔۔     قسطوں کی رقم اور مدت کا تعین کیا جائے۔

۲۔۔     قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر کوئی جرمانہ نہ کیا جائے،یا جلدی قسط ادا کرنے پر رقم میں کمی نہ کی جائے۔

لما في الدر:

(وبیع ما لیس في ملکه) لبطلان بیع المعدوم.قوله:(لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه.(کتاب البیوع،فصل في القرض:7/413،ط:رشیدیة)

وفي شرح المجلة:

البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطه صحیح،یلزم أن تکون المدة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط.

(شرح المجلة لسلیم رستم الباز[رقم المادة:245]،ص:124،ط:مکتبة حنفیة). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/143