بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ٹورنامنٹ منعقد کرنے اور اس کے لیے اسپورٹس سینٹر کرایہ پر لینے کا حکم

ٹورنامنٹ منعقد کرنے اور اس کے لیے اسپورٹس سینٹر کرایہ پر لینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں !
مسئلہ کی نوعیت کچھ یوں ہے کہ کسی اسپورٹس سینٹر کے کچھ نوجوانوں نے ٹورنا منٹ کے انعقاد کی ذمے داری اپنے سرلے لی اوراسپورٹس سنیٹر کے سامنے یہ بات رکھی کہ وہ اس ٹورنا منٹ کے تمام اخراجات برداشت کریں گے جس کے لیے وہ اسپورٹس کلب کی رسید بک کا استعمال کرتے ہوئے وصولی وغیرہ کریں گے ، وصولی جس مقدار میں بھی ہو جائے چاہے وصولی کم ہو اور ٹورنامنٹ کے اخراجات زیادہ ہوں یا اس کے برعکس ہو بہرصورت وہ اس اسپورٹس سینٹر کو دس ہزار روپے دیں گے ، چوں کہ جس اسپورٹس سینٹر کے سامنے یہ بات رکھی گئی اس اسپورٹس سینٹر کو اپنے سابقہ ٹورنامنٹس کے انعقاد میں ہمیشہ خسارہ ہی ہوا ہے ، اس لیے اسپورٹس سینٹر کے ذمے داروں نے اسپورٹس سینٹر کے لیے اس دس ہزار کی بچت کو اسپورٹس کے لیے نفع تصور کرتے ہوئے نو جوانوں کو اس کی منظوری دے دی، لیکن حاشاوکلا شرعی نقطہ نظر سے اس شکل کی کیا حیثیت ہو گی؟ ان کے ذہن ودماغ میں یہ بات اس وقت ہر گز ہر گز نہیں تھی ، اب اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ کہیں اس میں شریعت کی خلاف ورزی تو نہیں ہور ہی ہے ، اس لیے اس مسئلہ کی تفصیلی وضاحت ہو جائے تو نوازش ہو گی کہ مندرجہ بالاشکل جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے تو ایسا کوئی طریقہ یا بدل بتائیں کہ اس گناہ سے بچا جاسکے۔
براہِ کرم اس مسئلہ کا مدلل جواب مرحمت فرما کر ممنون ومشکور فرمائیں۔

جواب 

آپ نے جو نوعیت بیان کی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسپورٹس سینٹر والے دس ہزار روپے کرایہ کے عوض اپنا سینٹر ان نوجوانوں کے حوالے کریں گے جس میں وہ نوجوان ٹورنا منٹ کا انعقاد کریں گے، ” اگر سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق معاملہ کیا جائے اور دونوں طرف سے معاملہ کرنے والوں کے درمیان آپس میں کرایہ ، وقت، ٹورنامنٹ کی نوعیت کی تعیین ہو جائے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے البتہ اس بات کااہتمام ضروری ہے کہ کسی قسم کا خلافِ شرع کام اس ٹورنا منٹ میں نہ کیا جائے، نمازوں کی پابندی کی جائے، وقت کا ضیاع نہ ہو اور ایسے کھیلوں کے انعقاد سے اجتناب کیا جائے جو شریعت میں جائز نہیں، ورنہ اس قسم کا ٹورنا منٹ کرانا اور اس کے لیے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہ ہو گا۔
یہ بات بھی مدنظر رہے کہ جواز کی گنجائش اس وقت ہے جب لوگوں کی طرف سے دی گئی وصولی تعاون کی مدمیں ہو ورنہ اگر ٹورنا منٹ میں شرکت کے لے ہر ٹیم سے فیس وصول کی جائے تو اس میں اکثر صورتیں جوا اورقمار پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں، لہٰذا جب تک اس بات کی وضاحت نہ ہو جا ئے اس وقت تک ٹورنامنٹ کے جواز وعدم جواز او راس کے لیے اس طرح کا معاملہ کرنے کا فتویٰ نہیں دیا سکتا۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی