بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وین گارڈ (VENGUARD) کا ممبر بن کر کام کرنا اور اس کی آمدنی کا حکم

وین گارڈ (VENGUARD) کا ممبر بن کر کام کرنا اور اس کی آمدنی کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ وین گارڈ (VENGUARD)کے نام سے ایک ایپلیکیشن ہے ،اس پروگرام کو جوائن کرنے کے لیے پہلے آدمی سے سو ڈالر چاہتے ہیں ،لیکن سو ڈالر ضروری نہیں، بلکہ ساٹھ یا ستر بھی جمع کرسکتے ہیں، جب یہ پروگرام جوائن ہوجائے ،تو کمپنی کی طرف سے ہر دن چالیس چیزیں ،مثلاً قلم، کتاب ،کرسی اور ٹیبل وغیرہ بھیجتا ہے، اور آپ کو ان چیزوں کو شیئر کرنا پڑتا ہے، آپ ان چیزوں میں جتنا شیئر کرتے ہوں تو آپ کو ان چیزوں کا نفع ملے گا، مثلاً دو یا تین چیزیں آپ نے شیئر کی تو آپ کو اسی حساب سے نفع ملے گا، اگر شیئر نہ کیا جائےتو منافع نہیں ملے گا، یہ ملنے والا منافع آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجائے گا اور سو ڈالر جب آپ چاہیں نکال سکتے ہیں، اگر نکال دیا تو یہ پروگرام ختم ہوجاتا ہے، لیکن اس پروگرام میں ابھی تک کسی کا نقصان نہیں ہوا ہے، اس پروگرام میں جب بندے اپنے دوست بنائیں،تو آپ کو ہرہفتہ میں سو ڈالر ساٹھ ڈالر نفع ملے گا، اور یہ معلوم نہیں کہ سو ڈالر قرض کے ،یا ضمانت کے یا شراکت کےطور پر لیا جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اس ایپلیکشن(وین گارڈ) کے ممبر  بننے میں شرعی  ا عتبار سے چند مفاسد  ہیں ،مثلاً:

۱۔ کمپنی  جوائن کرنے  کے لئے ابتدا  میں  جو رقم(70.60ىا  100ڈالر) ادا کی  جاتی ہے ،اس کی حیثیت قرض  کی  ہے، چونکہ  کمپنی  قرض  کے بدلے میں  نفع  دیتی  ہے،اس  لئے یہ  لین  دین  شرعا حرام ہے۔

۲۔  کمپنی  میں  کام  کرنے (ممبربننے) کومشروط  کیا گیا ہے ابتدا میں  رقم  کی  ادائیگی  پر، جوکہ  عقد اجارہ کے خلاف ہے۔

۳۔ ابتدا میں رقم  کی  ادائیگی  کا معاملہ قرض  کا ہے، پھر کمپنی  میں  کام  کرنا (ممبر بننا) یہ معاملہ  اجارہ  کا ہے،  یہاں ایک   معاملہ کو دوسرے  معاملے میں  داخل  کیا جاتاہے، یہ شرعا جائز  نہیں  ہے۔

۴۔ ممبر ساز  جب کسی دوسرے شخص  کو ممبر بنائے ، پھریہ ممبر  (دوسراشخص)  کسی  تیسرے شخص  کو ممبر بنائے،تواس ممبر(تیسرےشخص)کی محنت کی وجہ سے ممبرساز (پہلاشخص) کو بغیر اس کی کسی محنت ومشقت کےبدلےنفع ملتا ہے،جوکہ درست نہیں ؛لہذا مذکورہ بالا مفاسد کی وجہ سے اس کمپنی کاممبر بننااور اس سےمالی فوائد حاصل کرنا شرعا ًجائز نہیں ہے۔

لمافي "الدر مع الرد":

"( كل قرض جر نفعا، حرام ) أي: إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحروعن الخلاصة، وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به".(كتاب البيوع،فصل في القرض،مطلب كل قرض جر نفعا حرام:7/413،ط:رشيدية)

وفي "بدائع الصنائع":

"وأما الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو: ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنه نهى عن قرض جر نفعا؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب،هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما، فلا بأس بذلك ؛لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء وأنه أمر مندوب إليه".(كتاب القرض، فصل في الشروط:10/598،597،ط:رشيدية)

وفي "شرح المجلة" لسليم رستم باز:

"وتفسد أيضابالشروط الفاسدة المخالفة لمقتضى العقد،كماإذا شرط على المستأجر علف الدابة ومؤنة الرد".(الكتاب الثاني في الإجــارة،الفصل الرابع:في الإجارة وبطـلانها{رقم المادة:46}:1/204،ط:حقانية)

وفي "الدرالمختار":

"وفي الدرر: لا يستحق الربح إلا بإحدى ثلاث: بمال أو عمل أو تقبل".(كتاب الشركة، مطلب شركة الوجوه:4/324،ط: دار الفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/216