بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وعدہ طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا حکم

وعدہ طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی بیٹی کو اس کے شوہر نے کہا کہ میں اپنی والدہ کے علاج کے لیے جارہا ہوں ،گھر اکیلا ہے،صرف ایک بھائی گھر میں ہے،آپ اپنی والدکے گھر رہیں،جب میں واپس آؤں گاآپ کو لے آؤں گا،اور وہ بیوی کو اس کے والد کے گھر چھوڑ کر چلا گیا،کچھ دنوں کے بعد بیوی اپنے گھر جانے پر بضد تھی ،اس کے شوہر نے کہااگر تم گھر جاؤں گی تو میں تم کو طلا ق دے دوں گا،اس کے باوجود بیوی  گھر چلی گئی،اب مذکورہ الفاظ سے طلاق ہوگی ،یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر  کے مذکورہ الفاظ(اگرتم گھرجاؤگی تومیں تم کو طلاق دے دوں گا)کہنے سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ یہ محض طلاق دینےکی دھمکی ہے،لہذامذکورہ عورت بدستوراپنے شوہر  کی زوجیت میں برقرار  ہے،البتہ آئندہ شوہر  کو چاہیے کہ ایسےالفاظ کہنے سے گریز کرے۔

لمافي الدرمع الرد:

بخلاف قوله:”طلقي نفسك“ فقالت:”أنا طالق،أو أنا أطلق نفسي“لم يقع؛لأنه وعد.جوهرة.بخلاف قولها:”أطلق نفسي“ لا يمكن جعله إخبارا عن طلاق قائم ؛لأنه إنما يقوم باللسان، فلو جاز لقام به الأمران في زمن واحد وهو محال.(كتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،3/547،ط:رشيدية)

وفي البحرالرائق:

"لو قال:(طلقي نفسك) فقالت:(أنا أطلق)لايقع،وكذا لوقال لعبده:(أعتق رقبتك) فقال:(أنا أعتق)لايعتق؛لأنه لا يمكن جعله إخبارا عن طلاق قائم أم عتق قائم؛لأنه إنما يقوم باللسان، فلو جاز قام به الأمران في زمن واحد وهو محال".(كتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،3/545،ط:رشيدية)

وفي الهندية:

"سئل نجم الدين عن رجل قال لامرأته: ”اذهبي إلى بيت أمك“فقالت: (طلاق ده تابروم) فقال:(توبرومن طلاق دمادم فرستم)قال:لا تطلق؛لأنه وعد،كذا في الخلاصة".(كتاب الطلاق،الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية،1/452،ط:دارالفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/116