بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والد کا اپنے بیٹوں پر قیمت خرید سے کم پر دُکان فروخت کرنا

والد کا اپنے بیٹوں پر قیمت خرید سے کم پر دُکان فروخت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک دُکان خریدی ،جس کی مالیت  تقریباً 62 باسٹھ لاکھ تھی،اب وہ اپنےبیٹوں کو یہ دُکان فروخت کرنا چاہے تو فروخت کرسکتا ہے، یا نہیں ؟ اور اگر متعاقدین 40 چالیس لاکھ روپے پر راضی ہو جائیں،تو باپ اور بیٹوں کے درمیان یہ عقد جائز ہوگا ،یا نہیں؟  یا  اتنی ہی قیمت میں خریدنا واجب ہوگا،جتنی قیمت پر والد نے دُکان   خریدی  تھی ، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد صاحب کا اپنے بیٹوں پر یہ دُکان  فروخت کرنا درست ہے،جتنی قیمت پر بھی متعاقدین رضامند ہوجائیں،چاہے وہ قیمت ِ خرید سے کم ہو ،یا زیادہ  ۔

لما في الهندية:

" يجوز بيع الأب من إبنه الصغير ، وشراءه منه لنفسه استحسانا .(كتاب البيوع ، في بيع الأب والوصي ، ... 3127،ط: دارالفكر)

وفي دررالحكام   شرح مجلة الأحكام:

" كل يتصرف في ملكه المستقل  كيفما شاء ". (كتاب الشركات ،الفصل الاول،3190،الماده :1192،ط: دارالكتب العلمية) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 173/134