بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والد تمام جائیداد بیٹوں کے نام کردینے کے بعد بیٹیوں یا ان کی اولاد کا حصّے کا مطالبہ کرنا

والد تمام جائیداد بیٹوں کے نام کردینے کے بعد بیٹیوں یا ان کی اولاد کا حصّے کا مطالبہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹوں میں تقسیم کردی تھی ،اور قبضہ بھی دے دیا تھا،جبکہ  بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا تھا، اور نہ ہی بیٹیوں نے مطالبہ کیا تھا،اب والد اور بیٹیوں کا انتقال ہوچکا ہے،تو کیا ان بیٹیوں کی اولاد کو اپنی ماں کے حصے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے،یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم کا اپنی زندگی میں بیٹوں کو اپنی تمام جائیداد تقسیم کرکے قبضہ دینے سے مذکورہ تمام جائیداد بیٹوں کی ملکیت ہوگئی،لہذا مذکورہ ملکیت کا دعوی نہ تو بہنیں کر سکتی تھیں ،اور نہ  اب ان کی اولاد کر سکتی ہے،اگرچہ والد مرحوم کے لیے اپنی بیٹیوں کو وراثت سے بالکلیہ محروم کرنا جائز نہیں تھا ۔

لما في التنوير مع الدر:

(و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له، أما في حق الواهب فتصح بالايجاب وحده لانه متبرع، حتى لو خلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث، بخلاف البيع (و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا

كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالاذن.(كتاب الهبة،8/570-572،ط:رشيدية)

وفي البحر الرائق:

يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.(كتاب الهبة،7/490،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/212