بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نوافل میں مشغولیت کی وجہ سے شوہراور بچوں کے حقوق سے لاپرواہی

نوافل میں مشغولیت کی وجہ سے شوہراور بچوں کے حقوق سے لاپرواہی

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام :میرا سوال یہ ہے کہ ایک عورت جس کا ایک 10 ماہ کا بیٹا بھی ہے اور وہ عورت الحمدلله بہت متقی اور پرہیز گار ہے،حرام سے اجتناب تو کجا وہ مکروہ تنزیہی سے بھی اجتناب کرتی ہے ، لیکن خاوند کے حقوق کے معاملے میں بہت سست ہے ۔ دن کا اکثرحصہ ذکر وعبادت میں گذرتا ہے اور دعا یاذ کرکے دوران اگر بچہ بہت رو رہا ہو یا شوہر کوئی بات پوچھے تو وہ بالکل التفات نہیں کرتی۔ نیز اگر کوئی مہمان آجائے تو وہ اپنے وقت مقررہ کے نوافل عبادات کے آجانے پر فورا اس میں مشغول ہو جاتی ہے جیسے ذکر ودعا یا فضائل اعمال کا مطالعہ۔

خاوند الحمدلله عالم ہے او راپنی بیوی کو بہت سمجھاتا رہتا ہے او راپنی حیثیت کے مطابق اپنے بیوی بچوں کا بہت خیال رکھتا ہے او رباہر کے جملہ کاموں کے ساتھ ساتھ گھر کے بھی اکثر کام شوہر ہی کو کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اپنی بیوی سے بہت ناراض رہتا ہے۔

برائے مہربانی مجھے مندرجہ ذیل سوالات کے بالترتیب جوابات درج بالا تفصیل کی روشنی میں عنایت فرمائیں، جو قدرے تفصیلی، سہل اور اصلاحی ہوں۔
1…عورت کا نوافل میں مشغول رہ کر اپنے خاوند کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرنا کیسا ہے ؟ اور عورت کو اپنے خاوند کی ضرورتوں کا کس حد تک خیال کرنا چاہیے ، شریعت کی اس بابت کیا تعلیم ہے؟
2…اگر گھر میں کوئی مہمان آجائے تو نفلی عبادات جو مؤخر ہو سکتی ہیں اس کو مہمان کے سامنے ہی وقت مقررہ پر اختیار کرنا اور لازمی سمجھنا۔
3…عورت کا اذان یا نفلی عبادات کے دوران شوہر کی کسی بات کا بالکل جواب نہ دینا خواہ شوہر کو جلدی میں کہیں جانا ہو۔
4…نفلی عبادات کے دوران بچہ کے رونے کی پرواہ نہ کرنا۔۔

جواب

1..تمہید کے طور پر سمجھنا چاہیے کہ اسلام ایک دین فطرت ہے ، جو تمام امور میں اعتدال کو پسند کرتا ہے او رافراط وتفریط سے منع کرتا ہے ، ایک مسلمان گھرانے میں عورت پر بیوی یا ماں ہونے کی حیثیت سے بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، جن میں سے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ شوہر کی خدمت واطاعت اور اس کی مرضی ومنشاء کا لحاظ رکھنا بھی ہے۔

شریعت اسلامیہ نے جہاں شوہر کے ذمہ بیوی کے تمام حقوق کی پاس داری کو واجب قرار دیا ہے، وہیں پر عورت کو بھی اپنے خاوند کی ( جائز امور میں) اطاعت وفرماں برداری کی تاکید کی ہے ، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایااگر الله تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کوحکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں ایک دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ جو عورت الله تعالیٰ اور قیامت کے دن پرایمان رکھتی ہو اس کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اسی طرح عورت کو یہ بھی حکم ہے کہ اگر اس کو شوہر اپنی حاجت کے لیے بلائے اور وہ تندور پر روٹیاں پکارہی ہو تو فوراً حکم کی تعمیل کرنی چاہیے ، حتی کہ روٹیوں کے جل جانے کی پرواہ نہ کرے ،ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہترین بیوی وہ ہے جس کو خاوند دیکھے تو خوش ہو جائے ، حکم کرے تو مان جائے اور شوہر گھر سے باہر ہو تو اپنی اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔

مذکورہ بالا تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔
1…عورت کا یہ برتاؤ درست نہیں، اسے اپنے شوہر کی ضرورتوں کو نوافل پر مقدم رکھنا چاہیے۔
2…اعمال پر مداومت اور مواظبت عمدہ صفت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی مہمان کی خاطر تواضع کی پرواہ بھی نہ کرے، حالاں کہ مہمان کا اکرام واجب ہے ، لہٰذا اس کے لیے دوسری نفلی عبادات کو مؤخر کرنا درست ہے ۔
4،3…عورت کا یہ فعل درست نہیں ، خاص کر جب شوہر عالم دین ہو تو یہ ایک نعمت سے کم نہیں ، اس سے اپنے جملہ امور میں را ہ نمائی حاصل کرنا، اس کی اطاعت وفرماں برداری کرناایک عقل مند بیوی کی عمدہ خوبی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک بچے کے رونے کی وجہ سے فرض نماز جلدی ادا کی تاکہ اس بچے کی ماں پریشان نہ ہو، تسبیحات اور ذکر وأذکار جو بچے کو گود میں لے کر بھی سر انجام دیئے جاسکتے ہیں ، اس کی وجہ سے بچہ روتا اور تڑپتا رہے ماں کی ممتا سے بعید ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی