بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازی کے آگےسے گزرنا،کسی مسلمان کو کافر یا ہندو کہنا

نمازی کے آگےسے گزرنا،کسی مسلمان کو کافر یا ہندو کہنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، دوسرا اس کے سامنے سے گزرا،تیسرے آدمی نے اسے کہا کہ نمازی کے سامنے گزرنا گناہ ہے، تو اس نے کہا کہ یہ ہندو  ہے،یہ کافر ہے اس کے سامنے گزرنے پر کوئی گناہ نہیں  (والعیاذ باللہ) اس طرح کے الفاظ کہنے کا کیا حکم ہے؟ راہنمائی فرمائیں  تاکہ آخرت میں مؤاخذہ نہ ہو ۔

جواب

احادیث مبارکہ میں نمازی کے سامنے گزرنے والے کے بارے میں سخت وعید مذکور ہے،نیزبغیر کسی سبب شرعی کے کسی مسلمان کو کافر یا ہندو کہنا انتہائی خطرناک ہے،اگر عقیدتاً اس مسلمان کو کافر یا ہندو کہا ہے،تو یہ کہنے والے کا ایمان ختم ہوجائے گا،اس کو تجدیدایمان اور تجدید نکاح  کرنا ضروری ہے،اگر عقیدتاً اس مسلمان کو کافر نہیں کہا، بلکہ ان الفاظ کے ساتھ گالی دینا مقصود ہے تو پھر یہ الفاظ کہنے والا گناہگار ہوگا،لہذا اس کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

لمافي الدرمع الرد:

(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا؟ نعم وإلا لا به يفتى. (قوله بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلما لما يذكره بعد (قوله إن اعتقد المسلم كافرا نعم) أي يكفر إن اعتقده كافرا لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر وإن اعتقده كفرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الإسلام كفرا. اهـ(كتاب الحدود،مطلب:في الجرح المجرد،6/111،رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/236