بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نامحرم کو سلام کرنا،یاسلام کا جواب دینے کا حکم

نامحرم کو سلام کرنا،یا سلام کا جواب دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ۱۔ غیر محرم عورت  اگر سلام کرے تو اسے جواب دینا  چاہیے،یا نہیں ؟

۲۔ ماموں کی اہلیہ یعنی ممانی سے ہاتھ ملانا کیسا ہے ؟  شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

۱۔نوجوان اجنبی عورت کا نا محرم کوبلا ضرورت نہ سلام کرنا درست ہے،اور نہ جواب دینا،اور بوقت ضرورت  سلام کرنا بھی درست ہے اور جواب دینا بھی ۔

۲۔ممانی اجنبی عورت کی طرح نامحرم ہے لہذا اس کے ساتھ ہاتھ ملانا جائز نہیں البتہ اگر وہ معمر ہو اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھ ملانے کی گنجائش ہے ۔

لما في الشامية:

وإذا سلمت المرأة لأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع وإن كانت شابة رد عليها في نفسه.(كتاب الحظروالاباحة،فصل في النظر والمس،9/609،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/74،78