بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نافرماں والدہ سے قطع تعلقی جائز نہیں

نافرماں والدہ سے قطع تعلقی جائز نہیں

سوال

ایک عورت کو شوہر کے انتقال کے بعد اس کے اپنے ہی بچوں کی گواہی کے بعد اس کی بدچلنی کے سبب میکے بھیج دیا جاتا ہے ۔ عورت نے اپنی عیاشی پر بچوں(4 لڑکیاں13,12,10,8 سال اور 2 لڑکے7 اور9 سال کے) کو چھوڑ کر جانا گوارا کر لیا بجائے نیکی کی راہ اختیار کرنے کے، چوں کہ اس کا میکہ بھی کرپٹ تھا لہٰذا وہاں پر عیاشی کے پورے پورے کھلے مواقع میسر تھے دوسری طرف بچوں کی پرورش اور ان کی شادیاں پھوپھوں نے کیں۔
سب سے بڑی بیٹی کے شوہر کے حادثہ کے بعد اس کی بڑی بیٹی بھی اپنی ماں کے نقش قدم پر چل نکلی، اس کو سب نے بہت سمجھایا کہ راہ راست پر آجا ؤ مگر وہ نہ مانی ، پھر اس نے اپنی تمام بہنوں اور پھوپھیوں سے ناتہ توڑ لیا اور اپنی ماں سے ناتہ جوڑ لیا، کچھ عرصہ بعد اس کے بھائی نے بھی ( جو اپنی اس بہن سے ملتا تھا) ماں سے ناتہ جوڑ لیا اور اپنی دوھیال سے ناتہ توڑ لیا۔
ان دونوں بہن بھائی کا کہنا ہے کہ ماں بہت عظیم ہستی ہوتی ہے ، لہٰذا ہمیں ماں سے او راپنی کرپٹ ننھیال سے ملنا ہو گا۔
وہ ماں جس نے اپنی بدچلنی کو برقرار رکھنے کے لیے معصوم بچوں کو لات مار دی، اور جب وہ بڑھیا ہو گئی جسم میں دم خم کچھ باقی نہ بچا تو اسے اپنے شادی شدہ بچوں والے بچے یاد آئے، او راس ماں نے آج تک اپنے گناہوں کا اقرار تک نہیں کیا اور نہ اپنے کیے پر نادم اور شرمسار ہے، بلکہ الٹا پھوپھیوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے کہ انہوں نے اس پر جھوٹے الزام لگائے۔
باپ کے مرنے کے بعد معصوم بچوں کو جب ماں کی ممتا کی شدید ضرورت تھی اس کڑے وقت میں بچوں کو تنہا چھوڑ کر رنگ رلیاں منارہی تھی۔
برائے مہربانی دین اسلام کی روشنی میں ہماری راہ نمائی فرمائیے کہ کیا ہم بھی اپنی کرپٹ ننھیال او رماں سے ناتہ جوڑ کر اپنے او راپنی اولاد کو گمراہی کے رستے پر چلنے کے خطرے میں ڈال دیں؟

جواب 

واضح رہے کہ والدین کی نافرمانی او ران سے قطع تعلقی کسی صورت میں اولاد کے لیے جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ جب وہ کسی گناہ کا حکم دیں تو اس صورت میں ان کا کہنا نہ مانا جائے، کیوں کہ جہاں خالق کے حکم کی نافرمانی لازم آرہی ہو وہاں مخلوق کے حکم کا شریعت میں کوئی اعتبار نہ ہو گا۔

چناں چہ قرآن کریم میں جہاں خالق کائنات نے اپنی عبادت اور توحید کا ذکر فرمایا وہیں والدین سے حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کا حکم بھی فرمایا ہے، اور دوسرے مقام پر فرمایا: تم میرا اوراپنے الدین کا شکر ادا کرتے رہو جس سے والدین کے مقام اور رتبہ کا خوب اندازہ اور وضاحت ہو جاتی ہے۔

ایک حدیث شریف میں آقائے نام دار صلی الله علیہ وسلم نے والدین کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اس شخص کا چہرہ خاک آلود ہو ، اس شخص کا چہرہ خاک آلود ہو ، اس شخص کا چہرہ خاک آلود ہو ، صحابہ کرام رضوان الله علہیم اجمعین نے دریافت فرمایا کہ کس شخص کا اے الله کے رسول ؟ آپ نے فرمایا: اس شخص کا کہ جس نے اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا او رپھر بھی جنت میں داخل نہ ہوسکا دوسری حدیث میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایسے شخص کے لیے بددعا فرمائی کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا ہو اور ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہو سکا ہو ، اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے آمین کہا کتنی سخت وعید ہے۔
لہٰذا آپ کو بہرحال اپنی والدہ محترمہ کی خدمت، اطاعت او راُن کے ساتھ حسنِ سلوک او رحسنِ اخلاق کا برتاؤ رکھنا چاہیے او ران سے اپنے تعلق کو برقرار رکھ کر ان کی نرمی وشفقت کے ساتھ اصلاح کی کوشش او ران کے لیے خوب دعا کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، الله تعالیٰ آپ کو ثابت قدم رکھے۔ آمین۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی