بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نابینا شخص پر حج واجب ہوتا ہےیا نہیں،راجح اور مفتیٰ بہ قول کیا ہے؟

نابینا شخص پر حج واجب ہوتا ہےیا نہیں،راجح اور مفتیٰ بہ قول کیا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نابینا آدمی اگر صاحب استطاعت ہو تو اس پر حج فرض ہے،یا نہیں ؟ فتویٰ کس کے قول پر ہے، امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر یا صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر ؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

صاحب استطاعت نابینے شخص  پر حج کے وجوب اور عدم وجوب کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہمااللہ کا جو اختلاف ہے، اس میں راجح اور مفتیٰ بہ قول حضرات صاحبین رحمہما اللہ کا ہے، لہذا نابینے شخص  پر حج فرض ہے،اور اگر خود نہیں جاسکتا ،تو اپنی جگہ کسی دوسرے آدمی کو خرچہ دے کرحج  کروانا ضروری ہے، تاکہ اس کے ذمے جو وجوب ہے،اس کی ادائیگی ہوجائے۔

لما في البحر الرائق:

( هو زيارة مكان مخصوص في زمان مخصوص بفعل مخصوص ).قوله : بشرط حرية وبلوغ وعقل وصحة والمراد بالصحة صحة الجوارح فلا يجب أداء الحج على مقعد ولا على زمن ولا مفلوج ولا مقطوع الرجلين ولا على المريض والشيخ الذي لا يثبت بنفسه على الراحلة والأعمى والمجبوس والخائف من السلطان الذي يمنع الناس من الخروج إلى الحج لا يجب عليهم الحج بأنفسهم ولا الإحجاج عنهم إن قدروا على ذلك هذا ظاهر المذهب عن أبي حنيفة وهو رواية عنهما وظاهر الرواية عنهما أنه يجب عليهم الإحجاج فإن أحجوا أجزأهم ما دام العجز مستمرا بهم فإن زال فعليهم الإعادة بأنفسهم وظاهر ما في التحفة اختياره فإنه اقتصر عليه وكذا الإسبيجابي وقواه المحقق في فتح القدير ومشى على أن الصحة من شرائط وجوب الأداء فالحاصل أنها من شرائط الوجوب عنده ومن شرائط وجوب الأداء عندهما.(كتاب الحج ،2/546،رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/235