بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میت کو قرض معاف کردینے سے معاف ہوجائے گا

میت کو قرض معاف کردینے سے معاف ہوجائے گا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے اپنے  بیٹوں میں سے ایک بیٹے کو اپنے مال میں سے کچھ رقم  بطور قرض دی ،جس بیٹے کو رقم دی اس کا کسی حادثے میں انتقال ہوگیا،اور ماں نے کہا میں نے اپنے بیٹے کو جو رقم دی تھی میں نے اسے معاف کردی، تو اب اس عورت کا بیٹا یعنی مرحوم کا بھائی یہ مطالبہ کرسکتا ہے کہ میں وہ رقم واپس لوں گا۔ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

وضاحت : مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مرحوم بیٹا ضرورت کے وقت اپنی ماں سے پیسے بطور قرض لیتا رہتا تھا ،جب اس کا  انتقال ہوا  اس وقت اس رقم میں سے کچھ بھی باقی نہیں تھا،اور اس کی والدہ نے وہ رقم بھی معاف کردی ،جبکہ مرحوم کادوسرا بھائی   اس رقم کا مطالبہ کر رہا ہے،اس کے بیو ی ،بچوں سے،آیا اس کا مطالبہ کرنا شرعا درست ہے یا نہیں ؟

جواب 

صورتِ مسئولہ میں جب والدہ نے اپنے بیٹے کو دی ہوئی قرض کی رقم برضاء و  خوشی معاف کردی،تو اب مرحوم کے ورثاء پر اس قرض کی ادائیگی لازم نہیں ہے،لہذا  اب  دوسرے بیٹے (مرحوم کے بھائی ) کا اس رقم کی واپسی کا مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے۔

لما في الهندية:

هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا وهبة الدين من غير من عليه الدين جائزة إذا أمره بقبضه استحسانا، كذا في التتارخانية.هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار. (الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين،4384، دارالفكر) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 173/49