بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مہنگائی کا سبب لوگوں کے گناہ،اور فرشتوں کا اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنے کے متعلق تحقیق

مہنگائی کا سبب لوگوں کے گناہ،اور فرشتوں کا اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنے کے متعلق تحقیق

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  ایک بات مشہور ہے کہ مہنگائی کا سبب لوگوں کے گناہ ہیں ، اور فرشتے آکر اشیاء کی قیمتیں مقررکرتے ہیں، اسلامی نقطہ نظر سے ان دو باتوں  کی کیا حقیقت ہے؟

جواب 

حضرات مفسرین رحمہم اللہ نے کتب تفسیر میں اس بات کو ذکر فرمایا ہے  کہ ”مہنگائی کا ایک  سبب لوگوں کے گناہ ہیں “ البتہ یہ کہنا کہ ”فرشتے آکر قیمتیں مقرر کرتے ہیں “یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، نیز جن احادیث میں اس بات کا ذکر ہے ، اس کو حضرات محدثین رحمہم اللہ  نے من گھڑت روایات میں سے قرار دیا ہے، کہ یہ احادیث نہیں ہیں ، لوگوں نے انہیں حدیث کا نام دیا ہے ۔

 وفي الجامع لاحكام القران:

قوله تعالى: (ظهر الفساد في البر والبحر).....أي ظهر قلة الغيث وغلاء السعر." بما كسبت أيدي الناس ليذيقهم بعض" أي عقاب بعض" الذي عملوا" ثم حذف. والقول الآخر- أنه ظهرت المعاصي من قطع السبيل والظلم، فهذا هو الفساد على الحقيقة، والأول مجاز إلا أنه على الجواب الثاني، فيكون في الكلام حذف واختصار دل عليه ما بعده، ويكون المعنى: ظهرت المعاصي في البر والبحر فحبس الله عنهما الغيث وأغلى سعرهم ليذيقهم عقاب بعض الذي عملوا." لعلهم يرجعون" لعلهم يتوبون.(سوره روم:41 ، 30/7،دارالكتب). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/91