بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مہتمم کا طلباءکی طرف وصولی زکوٰۃکاوکیل بننا جبکہ بعض طلباء نابالغ اور بعض مالدار ہوں

مہتمم کا طلباءکی طرف وصولی زکوٰۃ کا وکیل بننا جبکہ بعض طلباء نابالغ اور بعض مالدار ہوں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مہتمم مدرسہ طلبہ کی طرف سے وکیل ہے،تو وکالت کس نوعیت کی ہے،جبکہ طلباء  میں سے بعض بالغ اور بعض نابالغ بچے ہیں ، بعض مستحق زکو ٰ ۃ ہیں اور بعض غیر مستحق ہیں،نیز زکوٰۃ و صدقاتِ نافلہ سے مدرسین کو تنخواہ دینا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

مہتمم کا طلباء کی طرف سے فی نفسہ وکالت کرنا درست ہے،البتہ اس کے حکم میں تفصیل ہے کہ جو بچہ سمجھ دار ہو،پیسے کو سمجھتا ہو ،فضول ضائع  کرنے والا نہ ہو،تو ایسے بچے کی طرف سے مہتمم وصولی زکوٰۃ کی وکالت کرسکتا ہے، اور زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ ایسے نابالغ بچے کا والد مالدار نہ ہو، البتہ ایسا طالب علم  جو بالغ اور  مالدار ہو ،تو مہتمم کا  اس کی طرف سے وصولی زکوٰۃ کا  وکیل بننا درست  نہیں ہے ۔

زکوٰۃ  اور صدقات واجبہ کی رقم سے مدرسین کو تنخواہ دینا شرعاً جائز نہیں ، اس لیے کہ زکوٰۃ کی رقم کا مصرف کسی مستحق کو بلامعاوضہ مالک بنانا ہے،البتہ زکوٰۃ یا  صدقاتِ واجبہ کی رقم  میں شرعی حیلہ تملیک کیا جائے تو تملیک کے بعد زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم مدرسین کی کو تنخواہوں کی مد میں دینا  شرعاً جائز ہوگا ، نیز صدقات نافلہ کی رقم  اساتذہ کو تنخواہوں میں دینابہر حال  جائز ہے ۔

 

لما في الدر مع الرد:

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط.(كتاب الزكاة،باب المصرف، 3/341،ط: رشيدية)

وفي بدائع الصنائع:

وأما ولد الغنى فان كان صغيرا لم يجز الدفع إليه وان كان فقيرا لامال له لان الولد الصغير يعد غنيا بغنا أبيه وان كان كبيرا فقيرا يجوز لانه لا يعد غنيا بمال أبيه فكان كالأجنبي.(كتاب الزكاة،2/474،ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبى فقير أومجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز لان الولى يملك

قبض الصدقة عنه ....... ولا يجوز قبض الأجنبي للفقير البالغالعاقل الا بتوكيله لانه لا ولاية له عليه فلا بد من أمره كما في قبض الهبة.(كتاب الزكاة،فصل: في ركن الزكاة،2/455،ط: رشيدية)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 173/331