بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موبائل کے ذریعے قرآنی آیت یا حدیث مبارک ارسال کرنا

موبائل کے ذریعے قرآنی آیت یا حدیث مبارک ارسال کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل موبائل کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کو میسج بھیجتے ہیں ، جن میں اکثر قرآنی آیت وحدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم ہوتی ہیں اور جب میموری فل ہو جاتی ہے تو پھر چند ایک میسج ڈیلیٹ کرنے پڑتے ہیں جس میں قرآنی آیات واحادیث نبویہ صلی الله علیہ وسلم بھی ہوتی ہیں۔
آیا اس طرح ختم کرنے یا مٹانے سے نسخ قرآنی وحدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم یا تحریف قرآنی وحدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم کا جرم تو نہیں ہوتا۔
لہٰذا اس کے نسخ وعدم نسخ کے بارے میں مفصیل جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب 

صورت مسئولہ میں اگرS.M.S انگلش میں ہے تو وہ آیت قرآن یا حدیث کے حکم میں نہیں، اس لیے کہ قرآن الفاظ و معانی دونوں کا نام ہے او راگر عربی میں ہے تو اس کو ڈیلیٹ (Delete) کرنا تحریف تو نہیں ( کہ تحریف کا تعلق عقیدے سے ہے اور ڈیلیٹ کرنے والے کا عقیدہ یہ نہیں ہوتا کہ : ” یہ قرآن کریم کی آیت نہیں “ یا ” اس پر اضافہ ہے “ وغیرہ ) البتہ نسخ ( مٹانا) ہے اور قرآن کریم کی کوئی آیت یا حدیث نبوی کو لکھ کر مٹانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، تاہم بہتر یہ ہے کہ آیت قرآنی یا حدیث نبوی کو لکھ کر S.M.S کے طور پر سینڈ (Send) ہی نہ کیا جائے اس لیے کہ:
جب S.M.S کو ڈیلیٹ کیا جاتا ہے تو بعض موبائلوں میں ڈیلیٹ شدہS.M.S کو ڈسٹ بن میں گراتے ہوئے اسکرین پر دکھایا جاتا ہے جس میں بظاہر بے ادبی کا شائبہ ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی