بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منیٰ میں قیام مسنون ہے،عذر کی بناء پرمنیٰ کا قیام ترک کرنا

منیٰ میں قیام مسنون ہے،عذر کی بناء پرمنیٰ کا قیام ترک کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔ منیٰ میں قیام سنت  ہے یا سنت موکدہ ہے؟

۲۔ زید ایک گروپ سے حج کے لیے آیا ،۸ آٹھ ذوالحجہ کو منیٰ میں قیام کیا، چار نمازیں پڑھیں ،فجر سے پہلے عرفات کے لیے نکل گئے مغرب تک قیام کیا،مزدلفہ سے فجر ادا کرکے نکل گئے اور عزیزیہ چلے گئے وہی سے رمی کے لیے گئے اور پھر عزیزیہ واپس آگئے قربانی کی اطلاع مغرب کے وقت ملی پھر احرام اتار دیا، رات  گیا رہ  بجے عزیزیہ سے ہی طواف زیارہ کےلیے چلے گیے ، واپسی پھر عزیزیہ میں ہی ہوئی،منیٰ میں ۱۰ ذوالحجہ کی حاضری نہیں  ہوئی ،گروپ لیڈر نے بتا یا طواف زیارۃ کی وجہ سے وقوف منیٰ موقوف ہوگیا ہے،(کیا یہ عمل درست ہے) اگلے دن  ۱۱ گیا رہ   ذی الحجہ کو عزیزیہ سے رمی کےلیے گئے ، اور وہی واپس آئے ،اور بارہ ۱۲ ذوالحجہ کی نماز فجر کے لیے مسجد خیف لے کر گئے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی واپس عزیزیہ آگئے ( کیا یہ عمل درست ہے)اور پھر ۱۲ ذوالحجہ کی رمی عزیزیہ سے کی اور واپس عزیزیہ آگئے ،پوچھنے پر کہا گیا منیٰ میں قیام سنت عمل ہے، شرعی عذر کی بنا ء پر چھوڑا جاسکتا ہے ،حالانکہ گروپ میں کسی کو کوئی شرعی عذر نہیں  تھا۔

۳۔ کن صورتوں میں منیٰ کا قیام موقوف کیا جاسکتا ہے؟شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

۱۔   میں دن کو قیام کرنا  مستحب اوررات گزارنا سنت مؤکدہ  ہے ۔

۲۔ یوم  النحر  میں منی  سے  رمی جمرہ، حلق ، قربانی  کرنا ، طواف زیارت کے لئے جانا  اور ایام رمی  میں منی میں رات گزارنا سنت ہے۔

۳۔    چونکہ قیام منی دن کو  مستحب اور رات کو  سنت ہے ،ا سے  عذر کی بنا ء پر چھوڑنے کی  گنجائش ہے،لیکن بغیر شرعی عذر کے  چھوڑنا مکروہ ہے۔

لما  في البحر  الرائق:

"أطلقه فأفاد أنه يجوز التوجه إليها في أي وقت شاء من اليوم.  واختلف في المستحب على ثلاثة أقوال: أصحها أنه يخرج إليها بعد ما طلعت الشمس لما ثبت من فعله عليه السلام كذلك في حديث جابر الطويل وابن عمر مع اتفاق الرواة أنه صلى الظهر بمنى ،والبيتوتة  بها سنة والإقامة بها مندوبة . كذا في المحيط".(كتاب الحج، باب الإحرام، 2/58، ط:رشيدية).

وفي غنية الناسك:

"وأما الإقامة بها بعد الزوال إلى صبيحة عرفة فمندوبة".(باب السعي،فصل:في الرواح من مكة إلى منى وأداءالصلاة...،234،ط:المصباح).

وفي رد المحتار:

"(قوله ومكث بها إلى فجر عرفة) أفاد طلب المبيت بها فإنه سنة كما في المحيط، وفي المبسوط: يستحب أن يصلي الظهر يوم التروية بمنى ويقيم بها إلى صبيحة عرفة اهـ ويصلي الفجر بها لوقتها المختار، وهو زمان الإسفار...... (قوله فيبيت بها للرمي) أي ليالي أيام الرمي هو السنة، فلو بات بغيرها كره ولا يلزمه شيء".(كتاب الحج ،مطلب: في الرواح إلى عرفات،3/591،592،617،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/90،92