بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ملازمت کے لیے داڑھی کٹوانا

ملازمت کے لیے داڑھی کٹوانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق کہ: میں کراچی میں ملازمت کررہا ہوں لیکن یہ تنخواہ کافی نہیں ہے چند دن پہلے ابوظہبی سے کچھ آفیسر آئے ہوئے تھے ملازموں کو تلاش کرنے میں نے بھی وہاں انٹرویو دیا جس میں مجھے ( سلیکٹ) کر لیا گیا لیکن ان افسروں نے بتایا کہ ہمارا جو کام ہے اس میں تیل زمین سے نکالنا پڑتا ہے ، لہٰذا اس میں گیس بھی ہوتی ہے اس کے لیے ماسک پہننا پڑتا ہے ، لیکن جن لوگوں کی داڑھی ہوتی ہے وہ ماسک صحیح طور پر نہیں پہن سکتے، اس لیے آپ کو داڑھی باریک کرنی پڑی گی اورمیں نے خود بھی ساتھیوں سے ( جو وہاں پر کام کررہے ہیں ) پوچھا، تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ داڑھی باریک کرنی پڑے گی۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیے یہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں کیوں کہ بغیر ماسک پہنے ہوئے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے او رماسک کے لیے داڑھی باریک کرنی پڑتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمپنی بھی مسلمانوں کی ہے,برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب 

واضح رہے کہ ایک مشت کے بقدر داڑھی رکھنا واجب ہے ، جب کہ مذکورہ ملازمت میں اس کو کاٹنا پڑتا ہے جو کہ حرام ہے ، لہٰذا آپ کے لیے یہ ملازمت کرنا جائز نہیں، کوئی اور جائز ذریعہ معاش اختیار کیا جائے، ان شاء الله تعالیٰ آپ کو اس سے بہتر پاکیزہ برکت والی روزی ملے گی الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو تقوی اختیار کرتا ہے ، تو ہم اس کے لیے راستہ نکالتے ہیں اورایسی جگہ سے اسے روزی عطاء فرماتے ہیں جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور کمپنی والوں پر بھی لازم ہے کہ ایسا ماسک مزدوروں کے لیے تیار کریں جو داڑھی والے بھی پہن سکیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی