بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقروض شخص کا زکوٰۃ لینا

مقروض شخص کا زکوٰۃ لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا میں اپنے لیے زکوٰۃ کی رقم لے کر استعمال کرسکتا ہوں،جبکہ میں خود صاحب نصاب تھا،اب جبکہ کاروبار میں نقصان ہونےکی وجہ سے سب کا سب مال قرضے میں ہے،مال کے علاوہ اوپر سے قرضہ بھی ہے،میری بیوی کا جو سونا تھا پچھلے بیس سال  سے اس نے اپنے تین بیٹوں میں تقسیم کر دیا ہے،اب میرے پاس کوئی جمع پونجی نہیں ہے،مکان کا قرضہ بھی ادا کرنا ہے، شریعت روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

واضح رہے کہ جو شخص صاحب نصاب ہو، پھر کسی وجہ (قرضہ ، مال کا ہونا) سے نصاب  ختم ہوجائے، اور ضرورت سے زائد کوئی چیز بھی اس کے پاس باقی نہ رہے، تو ایسے شخص کو زکوٰۃ دینا درست ہے، البتہ تجارت کو  فروغ دینے کے زکوٰۃ لینا اور ا س کو مشغلہ بنانا درست نہیں ہے، اور ایک  دن کا بھی کھانا پینا ،موجود ہو  تو مانگنا درست نہیں ۔

لما في مجمع الأنهر:

وكره إعطاء الفقير نصابا إلا إذا كا ن المدفوع  إليه مديونا ،أو كان  صاحب  عيال ....... فإن كان عليه  دين يجوز أن يعطيه قدر ما يقضي دينه و زيادة دون المأتين .(كتاب الزكاة، باب في أحكام  بيان المصارف،1/333،ط:دارالكتب العلمية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/49