بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقدس اوراق کو پانی میں ڈالا جائے ،یا دفن کیا جائے ؟

مقدس اوراق کو پانی میں ڈالا جائے ،یا دفن کیا جائے ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید مقدس اوراق قرآن مجید  و قاعدے وغیرہ کے جو شہید اوراق ہیں ،ان کو جمع کرتا ہے،اور جن اوراق کو صحیح کر لیتا وہ مسجد میں دے دیتا ہے،اور جو زیادہ شہید ہیں  وہ جمع کرتا ہے،تو ان اوراق کا کیا جائے ؟ نیز اگر زید ان کے لیے کوئی جگہ مقرر کرلے مثلاً کوئی  بڑا کمرا ،یا خالی پلاٹ یا ہال وغیرہ اس میں وہ ان اوراق جمع کرے ،اور جب وہ کثرت سے جمع ہوجائیں پھر ان کو  سمندر میں گرانے کا انتظام کرے ،تو کیا زید کے لیے جائز ہے ؟

جواب 

قرآن کریم اور دیگر مقدس اوراق جو ناقابلِ انتفاع ہوں ،انہیں دریا بُرد کیا جائے ،یا سمندر میں ڈال دیا جائے ،یا کپڑے میں لپیٹ کر پاک اور محفوظ جگہ دفن کردیا جائے ۔

نیز زید کا یہ عمل (مقدس اوراق کو جمع کرنے کے بعد سمندر وغیرہ میں  ڈال دینا ) شرعاً  درست ہے۔

لما في الهندية:

"المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا كذا في الغرائب".(كتاب الكراهية،375،ط:دارالفكر). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/69