بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقتدیوں کو امام ِ مسجد کو تنخواہ دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ؟

مقتدیوں کو امام ِ مسجد کو تنخواہ دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بازار میں ایک مسجد بنام علی ؓ سے موجود ہے ،پھر اسی بازار میں مسجد علی ؓ کے قریب ایک اور مسجد بنام سعد ؓ بن گئی،اب بازار کے دکاندار نماز پڑھنے کیلئے مسجد سعد ؓ آتے ہیں اور مسجد سعد ؓ کے امام کو تنخواہ دیتے ہیں ،لیکن مالک بازار کہتاہے:دوکاندار وں سے کہ آدھا تنخواہ مسجد علی ؓ کے امام کو دیدے اور آدھا تنخواہ مسجد سعد ؓ کے امام کو دیدے ،اس وجہ سے کہ مسجد سعدؓ کی تعمیر بعد میں کی گئی ہے ، اب شرعا  مالکِ  بازار  دوکانداروں کو اس بات  پر مجبور کرسکتا  ہے  یا نہیں ؟

جواب 

واضح رہے کہ مساجد اللہ رب العزت کے گھر ہیں ،ان کو آباد کرنا تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور حدیث  پاک میں مساجد کو آباد کرنے  والوں کے متعلق بہت سارے فضائل وارد ہوئے ہیں ،اور آباد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسجد کی ضروریات کو پورا کیا جائے  اور مسجد کی ضرویات میں امام  ،موذن  اور خادمین کا ہونا ضروری ہے ،لہذا ان کے لئے اجرت مقرر کردی جائے ،تاکہ وہ اپنے اور گھر والوں کے معاش سے بے فکر ہوکر یکسوئی کے ساتھ  مسجد کو (پنج وقتہ ،جمعہ ،عیدین کی نماز اور وعظ و نصائح سے )آباد کرسکیں،لہذا صورت ِ مسئولہ میں مالک ِ بازار مشورہ یا ترغیب تو دےسکتا ہے ،لیکن مجبور نہیں کرسکتا ،دوکاندار جہاں  اور جتنا چاہیں دے سکتے ہیں ،ان کو پورا پورا اختیار ہے ،نیز وہ جس  مصرف میں دیدیں، اسی مصرف میں خرچ کرنا لازم ہے ،ان کی اجازت کے بغیر دوسری جگہ یا دوسرے شخص کو نہیں دیا جاسکتا،البتہ اگر سب لوگ باہمی مشاورت سے  دونوں مساجد کے ائمہ کے لئے معقول تنخواہ مقرر کرلیں یا  چند مخیر حضرات اپنی طرف سے تنخواہ مقرر کر لیں تو بہتر ہے ،تاکہ اختلاف سے بچا جاسکے  ۔

وفي درر الحكام شرح مجلة الأحكام:

( المادة 570 )لو استأجر أهل قرية معلما  أو إماما أو مؤذنا وأوفى خدمته يأخذ أجرته من أهل تلك القرية .

 لو استأجر أهل قرية معلما ليعلم أولادهم القرآن , أو الفقه , أو ما أشبههما من العلوم أو إماما ليصلي بهم أو مؤذنا  أو واعظا لينصحهم مدة معلومة وأوفى في خدمته بالفعل أو كان مهيأ للقيام بها فله أخذ الأجر المسمى من أهل القرية انظر المادة ( 469 ) وإذا لم يعطوه أجرته يجبرون على ذلك إجبارا . فهذا مجموع ما أفتى به المتأخرون من مشايخنا وهم البلخيون على خلاف في بعضه مخالفين ما ذهب إليه الإمام وصاحباه من عدم جواز هذه الإجارة كما هو الحال في غير ذلك من مسائل العبادات  وقد اتفقت كلمتهم جميعا على التعليل بالضرورة  ".

(الفصل الرابع في بيا ن إجارة الادمي،1/597،ط:دار الكتب العلمية).

وفي الدر المختار:

"قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة".(كتاب الوقف ،مطلب في  قولهم شرط الواقف كنص الشارع ،6/664،ط:دار المعرفة).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/140