بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد کے چندے سے امام مسجد اور مؤذن کے لیے گھر تعمیر کرنے اور ان کو تنخواہ دینے کا حکم

مسجد کے چندے سے امام مسجد اور مؤذن کے لیے گھر تعمیر کرنے اور ان کو تنخواہ دینے کا حکم

سوال

:    کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کے نام پر جو چندہ  کیا جاتا ہے،اور جمعہ کے دن  بھی لوگ ڈبے میں پیسے ڈالتے ہیں،جس سے کثیر رقم اکٹھی ہوجاتی ہے،اس رقم سے کیا امام مسجد ،مؤذن کا گھر تعمیر کر سکتے ہیں،اور اس سے ماہانہ تنخواہ امام صاحب ،مؤذن اور خادمین مسجدکی تنخواہ  دے سکتے ہیں ؟ اور دیگر کن مصالح میں خرچ کر سکتے ہیں،تفصیل سے آگاہ کریں ۔

جواب 

مسجد کے چندے سے امام مسجد اور مؤذن کا گھر تعمیر کرنا درست ہے،اور اس سے امام صاحب ،مؤذن اور خادمین مسجد کی تنخواہ دے سکتے ہیں،اس کے علاوہ  جو بچ جائے مسجد  کے دیگر مصالح (بجلی ،اور گیس کے بل ،مائک اور لاؤڈ اسپیکر وغیرہ جیسی مسجد کی دیگر اشیاء )میں خرچ کیا جائے ۔

لما في التنوير مع الدر:

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين فتح، فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا فيعطى المشروط لهم..... ثم الفاضل للفقراء أو للمستحقين...... ويدخل في وقف المصالح قيم ... إمام خطيب والمؤذن يعبرالشعائر التي تقدم شرط أم لم يشترط بعد العمارة هي إمام وخطيب ومدرس ووقاد وفراش ومؤذن وناظر.(كتاب الصلاة،مطلب يبدأ من غلة الوقف بعمارته،4366-371،ط:سعيد) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 172/259