بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد میں مدرسہ یا مکتب قائم کرنا، درس قرآن و درس حدیث دینے کا حکم

مسجد میں مدرسہ یا مکتب قائم کرنا، درس قرآن و درس حدیث دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں مدرسہ مکتب کا نظام قائم کرنا ،درس قرآن ودرس حدیث دینا کیسا ہے کیا ذکر وتلاوت میں تعلیم قرآن ودین شامل ہے ۔شرعی اعتبار سے رہنمائی فرما کر مشکور وممنون فرمائیں۔

جواب 

مدرسہ اور مکتب کے لیے اگر مسجد کے علاوہ جگہ کا انتظام ممکن ہو ،تو مسجد کو بطور مکتب استعمال کرنا درست نہیں اور اگر متبادل کا انتظام ممکن نہیں ،تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ مسجد میں مکتب قائم کرنے کی گنجائش ہے۔

۱۔ مسجد میں پڑھنے والے مسجد کا ادب واحترام کریں۔

۲۔ مسجد میں شور وشغب سے اجتناب کریں۔

۳۔ فیس کے بغیر تعلیم دی جائے۔

۴۔ پڑھانے والے حضرات بقدر ضرورت اجرت لیں۔

اسی طرح نماز کے بعد لوگوں کو درس ونصیحت، یا وعظ وتبلیغ کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس درس وتدریس کے لیے چند آداب کو ملحوظ رکھنا چاہے،جیسا کہ:

۱۔ درس کی اطلاع قبل ازوقت لوگوں کو دے دی جائے، تاکہ جو لوگ درس میں شرکت نہیں کرنا چاہتے وہ اپنی بقیہ نماز ادا کر کے گھروں کو جاسکیں۔

۲۔ مدرس اور مسجد انتظامیہ کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ لاؤڈ ااسپیکر کا استعمال ضرورت کے مطابق کریں ،تاکہ جو حضرات اپنی بقیہ نماز ادا کررہے ہوں انہیں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لہٰذا نماز کے بعد درس قرآن ودرس حدیث دینے میں کوئی حرج نہیں۔

لما في الدر:

ومسجد أستاذه لدرسه أو لسماع الأخبار أفضل اتفاقا.(کتاب الصلاة،باب مایفســــد الصلاة،مطلب في أفضل المساجد:1/659،ط:سعید)

وفي رد المحتار:

قوله:(ومن علم الأطفال إلخ) الذي في القنية: أنه يأثم ولا يلزم منه الفسق، ولم ينقل عن أحد القول به، ويمكن أنه بناء على أنه بالإصرار عليه يفسق. أفاده الشارح.قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة.(کتاب الحظر والإباح،فصل في البیع:9/707،ط:رشیدیة)

وفي البحر:

لأن المسجد ما بني إلا لها من صلاة،واعتكـاف،وذكر شـرعي، وتعليم علم،وتعلمه،وقراءةقرآن.(کتاب الصلاة،باب مایفسد الصلاة وما یکره فیها:2/60،ط:رشیدیة)

وفي الهندیة:

ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به لأنه قربة وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة كذا في محيط السرخسي.(کتاب الکراهیة،الباب الخامس:5/371،ط:دارالفکر بیروت)

. فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/97