بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مروّجہ قرآن خوانی ،تیجہ اور برسی منانے کا حکم

مروّجہ قرآن خوانی ،تیجہ اور برسی منانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔ آج کل مروجہ ختم قرآن جو کسی کے مرنے کے بعد گھروں میں عورتوں یا طلبہ بلا کر قرآن پڑھایا جاتا ہے ، کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے ؟

۲۔ اسی طرح میت کے لیے تیجہ ، چہلم  ، سالانہ کا رسم منانا کیسا ہے ؟

وضاحت :  اس قسم کی رسومات مثلا یوم عاشورہ ، شب براءت ختم قرآن وغیرہ میں خاص قسم کے کھانے بنائے  جاتے ہیں  پھر گھروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں ان کا کھانا کیسا ہے ؟ نیز نیا گھر بنانے کے بعد دعا کی جاتی ہے اور قر آن پڑھایا جاتا ہے  ، پھر اس کے بعد اس میں سکونت اختیار کی جاتی ہے ، کیا شریعت میں اس کی کوئی حیثیت ہے ؟

جواب

۱۔قرآن کریم کو پڑھ کر میت کو ثواب پہچانا مستحسن ہے ، ہرگز گناہ نہیں ، لیکن اس کے لیے یہ صورت اختیار کرنا کہ مجمع اکھٹا کیا جائے اور پڑھنے والوں کو کھانا کھلایا جائے یہ ثابت نہیں فقہاء کرام نے اسے بدعت اور مکروہ لکھا ہے ۔

۲۔ میت کو ایصال ثواب کرنا کار خیر اور پسندیدہ عمل ہے  لیکن اس کے لیے شریعت نے کوئی خاص طریقہ یا وقت متعین نہیں کیا بلکہ جب بھی ایصال ثواب کرنا ہو نماز  قرآن شریف وغیرہ پڑھ کر یا اور کوئی نیک عمل کرکے اس کا ثوا ب میت کو بخش دیا جائے ، کوئی خاص دن اور تاریخ اس کے لیے مقرر نہیں کرنا چاہیے لہذا میت کے لیے تیجا چہلم اور برسی منانا بدعت ہے  اس سے اجتناب کیا جائے ۔

لمافي البزازية:

"یکرہ اتّخاذالطعام في  الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع والأعیاد ، ونقل الطعام الی القبر في المواسم واتّخاذالدعوۃ بقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراءۃللختم .(کتاب الصلاۃ:1/54،ط:دار الفکر)

وفي الشامية:

"وقال أيضا :ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت ؛لأنه شرع في السرور، لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة .وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة . وفي‘‘البزازية’’ :ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص."

(كتاب الجنائز، مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت:3/176،ط:رشيدية)

وفي البحر :

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به ؛ لأنه خلاف المشروع .(كتاب الصلاة،باب العيدين،2279،رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/74،78