بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محلہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کا حکم

محلہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد  روڈ کے کنارے واقع ہے ،جہاں بازار کے لوگ پابندی  سے نماز پڑھنے آتے ہیں،نمازیوں  کی تعد اد تقریباً  200 کے آس پاس ہے ،نیز مسجد کا امام اور مؤذن بھی مقرر ہے۔ اس مسجد کے احاطہ میں ریلوے کی جگہ ہے جس میں چمن لگایا گیا ہے ۔ اس مسجد میں فجر کی جماعت بھی نہیں ہوتی کیونکہ فجر کی جماعت میں لوگ نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود اس مسجد کے  امام صاحب کا کہنا ہے کہ اس مسجد میں جماعت ثانیہ مکروہ ہے،چاہے مسجدکا حقیقی احاطہ یعنی ہال ،یا برآمدہ میں  ہو ،یا چمن( جو کہ ریلوے کی جگہ میں ہے)میں ہو،کیونکہ یہاں کے نمازی بھی معلوم اور امام بھی متعین ہے،نیز تقلیل جماعت اور تکاسل جو کہ جماعت ثانیہ کے مکروہ ہونے  کی علت ہے ،بھی پائی جاتی ہے ،بلکہ بعض لوگوں کا کہنا  ہے کہ یہ مسجد  قاعۃالطریق ہے،نیز اس میں پانچ وقتہ نماز باجماعت  نہیں پڑھی جاتی،اس لئے اس میں جماعت ثانیہ  ہو سکتی ہے ۔ براہِ کرم اس مسئلہ میں ہماری   رہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

صورت مسئولہ میں چونکہ امام ،مؤذن اور مقتدی سب متعین ہیں ، اس لئے اس مسجد میں جماعت ثانیہ کروانا مکروہ ہے، البتہ اگر اتفاقی طور پر کبھی کبھار جماعت ثانیہ کی نوبت آ جائے تو مسجد کی حدود سے باہر کروائی جائے ، لیکن اس کی عادت  نہ بنائی جائے ۔

لمافي الدرمع الرد:

ویکره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أومسجد لا إمام له ولا مؤذن .

قوله ( ويكره ) أي تحريما لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير إنه بدعة كما في رسالة السندي

 قوله ( بأذان وإقامة الخ ) عبارته في الخزائنأجمع مما هنا ونصها يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة إلا إذا صلى بهما فيه أو لا غير أهله أو أهله لكن بمخافتة الأذان ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضيخان ا هـ ونحوه في الدرر والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون كما في الدرر وغيرها

 قال في المنبع والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا ا هـ

 ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه ولنا أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى لمسجد وقد صلى أهل لمسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى ولو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنها لا تفوتهم

 وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء لا اختصاص له بفريق دون فريق ا هـ

 ومثله في البدائع وغيرها ومقتضى هذا الاستدلال كراهة التكرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان ويؤيده ما في الظهيرية.( كتاب الصلاة، مطلب في تكرار الجماعة في المسجد،2343،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 172/51