بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محض شک کی بنیاد پر وضو ٹوٹنے کا حکم

محض شک کی بنیاد پر وضو ٹوٹنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں خود امام مسجد ہوں ،جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں،تو ایک یہ کہ پیٹ میں گیس کا دباؤ بڑھ جاتا ہے،عام حالت میں اتنا دباؤ نہیں ہوتا،دوسرا یہ اس دباؤ کی وجہ سے مقعد کے مقام پر معمولی جلن ہوتی ہے،یا وہ مقام پھڑک سا جاتا ہے، اب شک یہ ہوتا ہے کہ یہ کہیں گیس کا  خروج  تو نہیں ،حالانکہ جب عام حالات میں گیس خارج ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا، مسئلہ کی اطمینان بخش وضاحت فرمائیں ، کیا کیا جائے ؟

جواب 

صورتِ مسؤلہ  میں محض شک کی بنیاد   پر وضو نہیں ٹوٹےگا،  بلکہ جب تک ظنِ غالب  نہ ہوا  س وقت  تک آپ کا  وضو برقرار  رہے گا۔

لما في الشامية:

حتى لو خرج ريح من الدبر وهو يعلم أنه لم يكن من الأعلى فهو اختلاع فلا ينقض، قال الإمام ابن عابدين (قَوْلُهُ قوله: لأنه اختلاج) أي ليس بريح حقيقة، ولو كان ريحا فليست بمنبعثة عن محل النجاسة فلا تنقض كما قدمناه (قوله: وهو يعلم) أي يظن لأن الظن كاف في هذا الباب ح أي الظن الغالب.(کتاب الطهارۃ:  مطلب فی نواقض الوضوء:1/287، ط:دار المعرفة، بيروت)

وفي بدائع الصنائع:

"وكذلك خروج الولد، والدودة، والحصا، واللحم، وعود الحقنة بعد غيبوبتها؛ لأن هذه الأشياء وإن كانت طاهرة في أنفسها لكنها لا تخلو عن قليل نجس يخرج معها، والقليل من السبيلين خارج لما بينا، وكذا الريح الخارجة من الدبر، لأن الريح، وإن كانت جسما طاهرا في نفسه لكنه لا يخلو عن قليل نجس يقوم به لانبعاثه من محل الأنجاس، وروي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «لا وضوء إلا من صوت أو ريح» .

وروي عنه - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «إن الشيطان يأتي أحدكم فينفخ بين أليتيه فيقول أحدثت أحدثت فلا ينصرفن، حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا» .(كتاب الطهارة: فصل في نواقض الوضوء:1/121، ط:رشيدية، كوئته).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 172/90