بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محرم وصفر میں شادی کوباعث نحوست سمجھنا

محرم وصفر میں شادی کوباعث نحوست سمجھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اپنے بیٹے کی شادی محرّم کی تیرہ، یا چودہ تاریخ کو کرنا چاہتے ہیں،بیٹی والے بضد ہیں کہ محرم اور صفر کے مہینے میں شادی جائز نہیں، اور ہم نہیں کریں گے ،براہ کرم ان مہینوں میں شادی کے جائز ،یا ناجائز ہونے کے سلسلے میں قرآن وسنت کی روشنی میں تحریری فتویٰ عنایت فرما دیں، تاکہ ہم اپنے عزیزوں اور بزرگوں کو قائل کرسکیں؟

جواب

ماہ محرّم وصفر میں شادی کرناجائز ہے، شریعت میں اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے، ان مہینوں میں شادی کو درست نہ سمجھنا ان غیر شرعی اموراور رسومات میں سے ہے،جو آج کل مسلمانوں میں پیدا ہو گئے ہیں،ابتداءِ اسلام میں کچھ حضرات جاہلیت کی رسم کے مطابق ماہ شوال میں شادی کو باعث نحوست سمجھتے تھے، جس کی اصلاح کے لیے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : میری شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئی تھیں ،اگر یہ چیز نحوست کا باعث ہوتی تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ میری زندگی اتنی اچھی کیسے گذرتی ، معلوم ہوا کہ مخصوص مہینوں میں شادی بیا ہ کو ناجائز سمجھنا،یا اچھا شگون نہ کرنا یہ سب غیر اسلامی رسوم ہیں، شریعت میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور اس دور میں جو ان مہینوں میں نکاح کرے گا وہ ایک غیر شرعی رسم کو مٹانے کی وجہ سے ثواب اخروی کا بھی مستحق ہو گا۔

لمافي صحیح البخاری:

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر۔(رقم الحدیث: 5757، 135/7، ط: دار طوق النجاۃ)

وفي روح المعانی:

إذ الأیام کلہا للّٰہ تعالیٰ لا تنفع ولا تضر بذاتہا۔(131/15، ط: زکریا)

وفي مرقاۃ المفاتیح:

قال القاضي: ويحتمل أن يكون نفيا لما يتوهم أن شهر صفر تكثر فيه الدواهي والفتن. (2894/7، ط: دار الفکر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 18/37