بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محرم میں ماتم

محرم میں ماتم

سوال

محرم الحرام کے مہینے میں حضرت حسین رضی الله عنہ کی شہادت کی وجہ سے غم اور سوگ کا اظہار کرنا، مرثیہ خوانی آہ و بکاء اور ماتم کرنا درست ہے یا نہیں؟
بعض سنی حضرات بھی ماتم وغیرہ کرتے ہیں تو کیا ان کے لیے اس طرح ماتم وغیرہ درست ہے یا نہیں؟

جواب 

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے مصائب کے وقت صبر کی تعلیم دی ہے اور ماتم صبر کے منافی ہے اس لیے اسلام میں ماتم، غم اور سوگ کا اظہار، مرثیہ خوانی اور آہ و بکاء ناجائز و حرام ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور الله تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو شعور نہیں۔“(سورہٴ بقرہ، آیت:153،154)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اور ان لوگوں کو بشارت اور خوش خبری دیجئے جو ہر مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور” اناللہ واناالیہ راجعون“ پڑھتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی خصوصی عنایات اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔(سورہٴ بقرہ، آیت:156،157)
ارشاد خداوندی ہے:
”اور الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔(سورہٴ آل عمران:146)
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں جو چہرے پر تھپڑ مارے اور گریبان پھاڑے اور کفر کے جاہلانہ طریقے پر آہ و فغاں اور واویلا کرے۔(بخاری شریف،ج:1/172)
حدیث قدسی میں ہے:
جو شخص میرے فیصلے اور تقدیر پر راضی نہیں اور میری بھیجی ہوئی مصیبت پر صبر نہیں کرتا تو وہ میرے آسمان کے نیچے سے نکل کر میرے سواکوئی اور رب تلاش کرے۔
علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں:
خبردار اور ہوشیار!عاشورہ کے دن روافض کی بدعتوں میں مبتلا نہ ہوجانا مانند مرثیہ خوانی، آہ و بکاء اور رنج و الم کے، اس لیے کہ یہ خرافات مسلمانوں کے شایان شان نہیں اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو حضوراقدس صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن اس کے لیے زیادہ موزوں تھا۔(الصواعق المحرقہ، ص109)
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:
اگر حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن یوم مصیبت و ماتم کے طور پر منایا جائے تو یوم شنبہ(پیرکادن) اس غم و ماتم کے لیے زیادہ موزوں ہے اس لیے کہ اس دن حضرت رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ہے اور اسی دن حضرت ابوبکر نے بھی وفات پائی ہے۔(حالا نکہ ایسا کوئی نہیں کرتا) (غنیة الطالبین، ج:2،38)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
اہل سنت کا طریقہ یہ ہے کہ عاشورہ کے دن فرقہ، روافض کی بدعات مثلاً: ماتم، نوحہ وغیرہ سے علاحدہ رہتے ہیں اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا کام نہیں ورنہ اس غم کا سب سے زیادہ حق دار پیغمبرحضرت محمدصلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن تھا۔(شرح سفرالسعادةص543)
معلوم ہوا کہ ماہ محرم میں ماتم، نوحہ خوانی، زنجیرزنی اور تعزیہ وغیرہ جیسی غیراسلامی رسومات روافض کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہیں، اسلام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
لہٰذا سنی حضرات کو چاہیے کہ ان کی غیر شرعی مجالس میں شرکت نہ کریں اور جو حضرات ناواقفی کی بنا پر شرکت کرتے ہیں، انہیں سمجھا کر ان کو منع کریں۔
الله تعالیٰ ہمیں ان رسومات و بدعات سے بچائیں اور راہ راست پر چلنے کی توفیق عطافرمائیں۔ آمین۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی