بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محرم میں ایصال ثواب

محرم میں ایصال ثواب

سوال

محرم کے مہینے میں بعض لوگ نویں دسویں گیارھویں تاریخ کو حلوہ، کھچڑا اور کھانا پکانے کا اہتمام کرتے ہیں، پکانے کے بعد لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
کیا اسلام میں ان تاریخوں میں کھانا پکانے کا اہتمام اور پکاکر تقسیم کرنا درست ہے یا نہیں؟اوراس کھانے کا کیا حکم ہے؟ کھانا درست ہے یا نہیں؟

جواب 

محرم کے مہینے میں بالخصوص نویں، دسویں اور گیارھویں تاریخ کو کھانا، کھچڑا اور حلوے پکاکر حضرت حسین رضی الله عنہ کی روح کو ایصال ثواب ناجائز وبدعت ہے۔
مروجہ کھانا وغیرہ صرف نام و نمود اور ریا کاری کے لیے پکایا جاتا ہے، اس کے علاوہ فساد عقیدہ کی وجہ سے اس میں اور بھی قباحتیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
اول: جن ارواح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے ان کو لوگ اکثر و بیشتر نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اس وجہ سے کھانا پکاکر دیتے ہیں اور یہ صریح شرک ہے اورایسا کھانا حرام ہوتا ہے اور الله تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت داخل ہوتا ہے:
”وما اھل لغیرالله بہ“(مائدہ آیت۔3)
حرام ہے وہ جانور جس پر نام پکارا جائے الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کا۔

دوم:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو چیز صدقے میں دی جاتی ہے میت کو بعینہ وہی چیز پہنچ جاتی ہے یہ خیال لغو اور غلط ہے۔

سوم:یہ تاریخ متعین کرنا کہ ان تاریخوں میں کھانا پکانا ہے، یہ اپنے اوپر غیر ضروری چیز کو لازم سمجھنا التزام مالایلزم میں داخل ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے اس رسم کو ترک کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی