بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماہِ ذوالحج کے پہلے عشرہ میں ناخن اور بال کاٹنے کا حکم

ماہِ ذوالحج کے پہلے عشرہ میں ناخن اور بال کاٹنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ماہِ ذولحجہ میں بال اور ناخن کا  کاٹنا  جائز ہے،یا ناجائز  ؟

جواب 

قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن ،سر ، بغل او ر ناف کے نیچے ، بلکہ بدن کے کسی بھی حصّے  کے بال نہ کاٹے ، لیکن یہ صرف مستحب ہے  اس پر عمل نہ کرنا بھی جائز ہے ، اور گناہ کی کوئی بات نہیں ، البتہ اگر قربانی سے پہلے چالیس دن گزر گئے  ہوں ، تو ناخن کاٹنا اور زیرناف اور بغل کے بالوں کی صفائی کرنا ضروری ہے ۔

لما في الشامية :

قال في شرح المنية وفي المضمرات عن ابن المبارك في تقليم الأظفار وحلق الرأس في العشر أي عشر ذي الحجة قال لا تؤخر السنة وقد ورد ذلك ولا يجب التأخير اه

 ومما ورد في صحيح مسلم قال رسول الله إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا فهذا محمول على الندب دون الوجوب بالإجماع فظهر قوله ولا يجب التأخير إلا أن نفي الوجوب لا ينافي الاستحباب فيكون مستحبا إلا إن استلزم الزيادة على وقت إباحة التأخير ونهايته ما دون الأربعين فلا يباح فوقها

 قال في القنية الأفضل أن يقلم أظفاره ويقص شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع وإلا ففي كل خمسة عشر يوما ولا عذر في تركه وراء الأربعين ويستحق الوعيد فالأول أفضل والثاني الأوسط والأربعون الأبعد اه

(كتاب الصلاة،مطلب في إزالة الشعر والظفر في عشر ذي الحجة،2/181،دارالفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/60