بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماہ محرّم، محترم ومعظم یا منحوس؟

ماہ محرّم، محترم ومعظم یا منحوس؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ماہ محرّم، محترم ومعظم ہے یا منحوس؟ اہلسنت کے نزدیک یہ مہینہ محترم ہے کیوں کہ محرّم کے معنی ہی ہے محترم کے ہیں،جب کہ اہل تشیع کے نزدیک یہ منحوس مہینہ ہے کیوں کہ حضرت حسین ؓ کی شہادت اس میں واقع ہوئی ہے؟اس کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔

جواب

محرّم کا مہینہ بہت عظمت والا مہینہ ہے۔ صرف اسلام میں نہیں بلکہ اس کی فضیلت اسلام سے بہت پہلے کی ہے ۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فرعون سے اسی مہینہ میں نجات ہوئی ،اسی مہینہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور بھی بہت سے فضیلت کی چیزیں اسی مہینہ میں ہوئی ہیں (کذا فی احسن الفتاوی ج1،ص:389)، باقی اہل تشیع کا اس مہینہ کو اس لیے منحوس سمجھنا کہ اس میں حضرت حسین ؓ کی شہادت ہوئی ،لغو ہے ،کیوں کہ شہادت تو خود ایک فضیلت کی چیز ہے۔ لہٰذا اس سے تو اس مہینہ کی عظمت اور بڑھ گئی خود حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے شہادت کی تمنا کی جیسا کہ (مشکوٰۃ ج،2،ص329)میں ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اﷲ کی جس کے قبضہ  میں میری جان ہے کہ میری تمنا ہے کہ  میں اﷲ کے راستے میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر قتل کیا جاؤں ،بار بار یہ فرمایا، اگر شہادت فضیلت کی چیز نہ ہوتی تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کبھی شہادت کی تمنا نہ فرماتے۔
عَنْ أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: انْتَدَبَ اللَّہُ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ، لاَ یُخْرِجُہُ إِلَّا إِیمَانٌ بِی وَتَصْدِیقٌ بِرُسُلِی، أَنْ أُرْجِعَہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ، أَوْ أُدْخِلَہُ الجَنَّۃَ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّی أُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ أُحْیَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا، ثُمَّ أُقْتَلُ.''
(بخاری: 10/1، کتاب الإیمان، باب الجھاد من الإیمان، قدیمی)
(مشکوٰۃ:329/2، کتاب الجھاد، الفصل الاول، قدیمی). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 16/395